اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے منگل کے روز ایوانِ صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں انہوں نے صدر کو اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے تاریخی مذاکرات کے تمام پہلوؤں اور اب تک ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیراعظم نے صدر مملکت کو مذاکرات کے مختلف مراحل، پاکستان کی ثالثی کے ذریعے حاصل ہونے والے نتائج اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر اعتماد میں لیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے اپنے آئندہ دورہ سعودی عرب اور ترکیہ کے بارے میں بھی آگاہ کیا، جن کا مقصد خطے میں سفارتی روابط کو مزید مستحکم کرنا اور امن عمل کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ سمیت سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سینیٹر شیری رحمان اور نیئر حسین بخاری بھی شریک تھے، جو صدر مملکت کی معاونت کے لیے موجود تھے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس عظیم سفارتی اقدام کو کامیاب بنانے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور تمام ریاستی اداروں کی انتھک کوششوں کو بھرپور انداز میں سراہا۔
صدر زرداری نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مثالی ہم آہنگی نے اس اعلیٰ سطحی رابطے کو ممکن بنایا، جس سے پاکستان نے عالمی برادری میں ایک ذمہ دار اور کلیدی ریاست کے طور پر اپنی پوزیشن کی توثیق کر دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ان مذاکرات کے لیے پلیٹ فارم مہیا کر کے دنیا پر اپنی امن پسند ساکھ ثابت کر دی ہے اور یہ کردار ملک کی سفارتی تاریخ میں ایک سنہرا باب ثابت ہوگا۔
ملاقات کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے صدر آصف زرداری نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور سیاست پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کو امریکہ اور ایران کے ساتھ ساتھ دیگر بڑی علاقائی و عالمی طاقتوں کے ساتھ فعال اور مسلسل رابطے میں رہنا چاہیے تاکہ امن عمل کے تسلسل اور علاقائی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
صدر مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کی پیشکش اس کی عالمی ذمہ داریوں کا مظہر ہے، اور پاکستان خطے میں استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

