آبنائے ہرمز میں امریکی جہازوں کی آمد کا دعویٰ جھوٹ ہے، ایرانی فوج نے امریکی سینٹکام کا بیان مسترد کر دیا

تہران: ایرانی فوج نے آبنائے ہرمز سے امریکی جنگی جہازوں کے گزرنے اور وہاں بارودی سرنگوں کی صفائی کا مشن شروع کرنے سے متعلق امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا دعویٰ سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں امریکی کمانڈر کے دعوے کو صریحاً جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے کسی بھی بحری جہاز کی آمد و رفت اور گزرگاہ کا اختیار صرف اور صرف اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے پاس ہے۔

ایرانی کمانڈر نے واضح کیا کہ امریکی جہازوں کے اس حساس علاقے میں داخل ہونے کی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں ہے اور ایران اپنی سمندری حدود کی نگرانی پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔

اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ دعویٰ کر کے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی تھی کہ امریکی بحریہ کے دو گائیڈڈ میزائل بردار جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کا مشن شروع کر دیا ہے۔

سینٹکام کا کہنا تھا کہ ان جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیج عرب میں آپریشنز انجام دیے ہیں اور آنے والے دنوں میں اضافی امریکی دستے اور زیرِ آب ڈرونز (Underwater Drones) بھی اس مشن کا حصہ بنیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس حوالے سے بیان دیا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو ان ممالک کے لیے صاف کر رہا ہے جو امریکہ پر سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں، تاکہ آزادانہ تجارت کے لیے ایک محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ دو ہفتوں کی جنگ بندی میں آبنائے ہرمز کو کھولنے پر اتفاق ہوا تھا، تاہم عملی طور پر صورتحال اب بھی پیچیدہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بحری جہازوں کو نہ صرف بارودی سرنگوں بلکہ ممکنہ میزائل حملوں کا خطرہ بھی درپیش ہے، جس کی وجہ سے تجارتی آمد و رفت بحال نہیں ہو سکی۔

امریکی حکام نے ایران پر الزام لگایا تھا کہ اس نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے غیر منظم طریقے سے بارودی سرنگیں بچھائی ہیں جن کا ریکارڈ موجود نہیں، اور سمندری بارودی سرنگوں کو صاف کرنا انتہائی مشکل عمل ہے جس کی صلاحیت ایران کے پاس نہیں ہے۔

ایران کی جانب سے ان دعوؤں کی تردید نے ایک ایسے وقت میں نئی بحث چھیڑ دی ہے جب اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔