راولپنڈی: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں انہوں نے خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امریکہ و ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے پاکستان کی مسلسل اور مؤثر سفارتی کوششوں کی بھرپور تعریف کی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جس طرح ایک ‘عزیز بھائی’ کا حق ادا کرتے ہوئے امن کے لیے انتھک محنت کی، وہ قابلِ ستائش ہے۔
گفتگو کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے فیلڈ مارشل کو اسرائیل کی جانب سے ایران اور لبنان میں کی جانے والی جنگ بندی کی حالیہ خلاف ورزیوں سے بھی آگاہ کیا اور خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کے مزید فعال کردار پر زور دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں واضح کیا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں اور ایران اس موقف پر قائم ہے کہ اگر اس کے خلاف حملے مکمل طور پر روک دیے جائیں تو ایرانی مسلح افواج بھی اپنی تمام دفاعی کارروائیاں فوری طور پر معطل کر دیں گی۔
عباس عراقچی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی اپیل پر خیر سگالی کے جذبے کے تحت آبنائے ہرمز سے دو ہفتوں کے لیے محفوظ بحری آمد و رفت کو ممکن بنایا جائے گا، تاہم یہ پورا عمل ایرانی مسلح افواج کے ساتھ مکمل رابطے اور ضروری تکنیکی حدود و قیود کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایک بااعتماد سہولت کار کے طور پر دونوں فریقین کے درمیان خلیج کم کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔
مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت بتاتے ہوئے عباس عراقچی نے انکشاف کیا کہ ایران نے پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی 10 نکاتی تجاویز پیش کر دی ہیں، جن میں تہران کے بنیادی مطالبات کو شامل کیا گیا ہے۔
ان تجاویز کے مطابق ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جائے، ایران پر عائد تمام معاشی و سیاسی پابندیاں ختم کی جائیں اور مستقبل میں کسی بھی ممکنہ حملے یا جارحیت کے خلاف عالمی سطح پر مضبوط ضمانتیں فراہم کی جائیں۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ان تجاویز کا سامنے آنا اور پاکستان کی ثالثی پر مکمل اعتماد کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد اب عالمی سفارت کاری کا مرکز بن چکا ہے اور ہفتے کے روز ہونے والے مذاکرات خطے کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔

