افغان طالبان پہلے دہشت گردوں کو حوالے کریں، پھر بات ہوگی، ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان افغان طالبان سے بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کریں اور اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کے لیے ٹی ٹی پی اہم ہے یا پاکستان، اور وہ دہشت گردی کا راستہ اپناتے ہیں یا امن کا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان نے دہشت گردوں کو نہ صرف پناہ دے رکھی ہے بلکہ انہیں سرکاری عمارتوں میں بھی چھپایا گیا ہے، جبکہ پاکستان بارہا مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر چکا ہے، مگر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور انفراسٹرکچر کے خلاف 81 کارروائیاں کیں، جن میں اسلحہ ذخائر اور ڈرون اسٹوریج کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں افغان طالبان کی جانب سے پاکستان میں کیے گئے 53 حملوں کے ردعمل میں کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ کابل میں نشانہ بنائے گئے مقامات پر گولہ بارود اور ڈرونز موجود تھے، اور دھماکوں کی شدت اسی وجہ سے تھی، جبکہ سویلین ہلاکتوں سے متعلق دعوے بے بنیاد اور پروپیگنڈا ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ پاکستان کی افغان عوام سے کوئی دشمنی نہیں، بلکہ وہ خود بھی موجودہ صورتحال میں متاثر ہو رہے ہیں، اور کارروائیاں صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ افغانستان میں عالمی دہشت گرد تنظیموں کو جگہ دی جا رہی ہے، اور کچھ عناصر منشیات کے عادی افراد کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار بھی موجود ہے، جو افغان طالبان کو ڈرون فراہم کر رہا ہے، جبکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی جنگ لڑ رہا ہے جس میں ہزاروں جانیں قربان ہو چکی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے افغانستان پر جنگ مسلط نہیں کی بلکہ دہشت گردی کی یہ جنگ پاکستان پر مسلط کی گئی ہے، اور اس کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی جب تک مکمل خاتمہ یقینی نہ بنایا جائے۔