طاقت کا استعمال ناقابل قبول، ایران کے معاملے پر چین کی امریکا کو وارننگ

چین نے ایران میں جاری مظاہروں کے تناظر میں امریکا کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال اور ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے خلاف ہے۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے بیان میں کہا کہ عالمی قوانین کے تحت تمام ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ چین کو امید ہے کہ ایرانی حکومت اور عوام موجودہ مشکل صورتحال پر قابو پالیں گے اور ملک میں استحکام برقرار رکھنے میں کامیاب ہوں گے۔

چینی مؤقف میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تنازعات کا حل فوجی طاقت کے بجائے سیاسی عمل اور مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

دوسری جانب، جرمن چانسلر نے بھی ایران میں جاری تشدد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طاقت کا استعمال کمزوری کی علامت ہے اور تشدد کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں، جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔

فلوریڈا سے واشنگٹن ڈی سی جاتے ہوئے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایرانی اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے میں ہیں اور ایران نے جوہری معاہدے پر بات چیت کے لیے بھی رابطہ کیا ہے، جس پر ملاقات ممکن ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس انتہائی طاقتور آپشنز موجود ہیں اور کسی بھی مرحلے پر ان پر عمل کیا جا سکتا ہے۔