امریکا میں لاکھوں ڈالر خرچ کر کے لابنگ کے باوجود بھارت کو سفارتی سطح پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
امریکی تحقیقاتی ادارے اوپن سیکرٹس کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی حکومت نے اپنی عالمی ساکھ بہتر بنانے کے لیے امریکا میں متعدد لابنگ فرمز کی خدمات حاصل کیں۔
رپورٹ کے مطابق، بھارت نے امریکی لابنگ فرم بی جی آر گروپ کو 4 لاکھ 50 ہزار ڈالر ادا کیے تاکہ سفارتی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کی جا سکے، تاہم مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔
بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس نے بھی ان انکشافات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آپریشن سندور میں ناکامی کے بعد بھارت نے ٹرمپ انتظامیہ تک رسائی کے لیے لابنگ کا سہارا لیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، اس دوران امریکی حکام سے ملاقاتوں اور اپنے مؤقف کے حق میں فضا ہموار کرنے کے لیے لابنگ فرمز کی مدد لی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت نے ایس ایچ ڈبلیو نامی لابنگ فرم کو سالانہ 1.8 ملین ڈالر جبکہ مرکری پبلک افیئرز کو 75 ہزار ڈالر سہ ماہی بنیاد پر ہائر کیا۔
امریکی اور بھارتی ذرائع کے مطابق، خطے میں تنازعات اور سفارتی ناکامیوں کے بعد بھارت کا مہنگی لابنگ پر انحصار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا ہے، جسے پیسے کے زور پر بحال کرنے کی کوشش کی گئی۔

