تہران: ایران میں حکومت مخالف مظاہروں نے مزید شدت اختیار کر لی ہے اور غیر ملکی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق احتجاج ملک کے 100 سے زائد شہروں تک پھیل چکا ہے۔
تہران اور مشہد سمیت بڑے شہروں میں رات گئے حکومت کے خلاف مارچ کیے گئے، جن کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔
مختلف ذرائع کے مطابق، اب تک ہلاک افراد کی تعداد 47 سے 50 کے قریب پہنچ چکی ہے جن میں سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ دو ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور سینکڑوں زخمی ہیں۔
ناروے میں قائم ایرانی ہیومن رائٹس این جی او کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کم از کم 8 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں پاسداران انقلاب کے اہلکاروں سمیت کم از کم 5 سیکیورٹی اہلکار مارے گئے اور سینکڑوں پولیس و بسیج اہلکار زخمی ہوئے۔
صورتحال کے پیش نظر ایران میں ایک بار پھر انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے، جبکہ ترکیے نے استنبول سے تہران جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا، جس پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ردعمل دیتے ہوئے امریکا پر ایرانیوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کا الزام لگایا اور کہا کہ کچھ عناصر عوامی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچا کر ٹرمپ کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ احتجاج جائز ہے مگر فساد ناقابل قبول ہے، حکومت مظاہرین سے بات کر سکتی ہے لیکن تخریب کاروں سے نہیں۔
ایران نے اقوام متحدہ سے ریاستی خودمختاری کے تحفظ اور بیرونی مداخلت روکنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی بیانات کو داخلی معاملات میں مداخلت اور دھوکا دہی قرار دیا ہے۔
عالمی سطح پر ان مظاہروں اور امریکی بیانات کے بعد خطے میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔

