امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا اپنے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی تمام رقم صرف امریکی مصنوعات کی خریداری پر خرچ کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ وینزویلا نے امریکا کو اپنا اہم ترین تجارتی شراکت دار منتخب کیا ہے، جو ایک عقل مندانہ فیصلہ ہے اور دونوں ممالک کے عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق، امریکی سامان میں زرعی مصنوعات، ادویات، طبی آلات، بجلی گھروں کے آلات اور توانائی کی سہولیات کو بہتر بنانے والا انفراسٹرکچر شامل ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے وینزویلا کی معیشت کو استحکام ملے گا جبکہ امریکی صنعت اور روزگار کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔
واشنگٹن میں حکام کے مطابق، اس پالیسی کے تحت وینزویلا سے 30 سے 50 ملین بیرل تک تیل امریکا کو فراہم کیا جائے گا اور اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی مخصوص امریکی کنٹرولڈ کھاتوں میں رکھی جائے گی، جہاں سے صرف امریکی مصنوعات کی خریداری ممکن ہوگی۔
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وینزویلا اسی صورت میں اپنا تیل فروخت کر سکے گا جب یہ امریکی قومی مفادات کے مطابق ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر وینزویلا امریکی مفادات پورے کرنے میں ناکام رہا تو اسے تیل بیچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ اعلان وینزویلا پر معاشی دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ امریکی بالادستی کو مضبوط کرنے کی ایک واضح حکمت عملی ہے، جس کے تحت تیل وینزویلا کا ہوگا مگر اس کی آمدنی اور استعمال پر کنٹرول امریکا کے پاس رہے گا۔

