وزیراعظم نے نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لے کر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی آفر دی، عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے: رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے قائد نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لے کر پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیشکش کی، تاہم حکومت کو اندازہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جب بھی حکومت بات چیت کی پیشکش کرتی ہے تو پی ٹی آئی یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ وزیراعظم کے پاس اختیار نہیں، حالانکہ وزیراعظم نے مکمل مشاورت کے بعد مذاکرات کی آفر دی ہے۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق، اسلام آباد ہائی کورٹ کے بینچ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا باقاعدہ طریقہ کار طے کیا، جس کے تحت ملاقات کے بعد سیاسی سرگرمیاں، ہلہ گلہ، پریس کانفرنسز یا کسی قسم کی بدنظمی نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ملاقاتوں کے بعد سیاسی ماحول کشیدہ ہو جاتا تھا، اسی لیے عدالت نے واضح ہدایات جاری کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو طریقہ کار پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی تھی، اگر قانون اور عدالتی احکامات کی پاسداری کی جائے تو ملاقات میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے، اور اگر جیل حکام عدالتی حکم پر عمل نہیں کر رہے تو اس کے لیے دوبارہ عدالت سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس معاملے میں حکومت کی نیت پر کسی قسم کا شک نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب اپوزیشن یہ تاثر دیتی ہے کہ وہ تحریک چلانے جا رہی ہے اور حکومت مذاکرات کی بات کرکے انہیں ٹریپ کرنا چاہتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت سیاسی استحکام کے لیے بات چیت چاہتی ہے۔

ان کے مطابق، اپوزیشن یہ سمجھتی ہے کہ ان کی تحریک کامیاب ہونے والی ہے، اسی لیے وہ مذاکرات سے گریز کر رہی ہے۔

سینئر رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ اپوزیشن اگر 5 فروری کو پہیہ جام کرنے کا اعلان کر رہی ہے تو پہلے وہ یہ کرکے دیکھ لے، اس کے بعد دوبارہ بات ہو سکتی ہے۔

رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ حکومت کو اندازہ ہے کہ عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے، کیونکہ وہ حکومت میں ہوں تو اپوزیشن سے بات نہیں کرتے۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو ریاست سے ٹکراؤ کی پالیسی کا نقصان ہوگا اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں جو سیاسی استحکام لا سکتے ہیں۔