لاہور میں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ پنجاب کو دوسرے صوبوں سے زیادہ فنڈز ملتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ہر صوبے کے پاس پیسہ موجود ہے، فرق صرف نیت، ارادے اور گورننس کا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاست کا اصل مقصد عوام کی خدمت ہے نہ کہ پروٹوکول اور سیاسی جوڑ توڑ، اچھی گورننس سے بہتر کوئی سیاست نہیں ہو سکتی۔
مریم نواز نے کہا کہ بعض حلقے جان بوجھ کر یہ تاثر دیتے ہیں کہ کوئی صوبہ اس لیے محروم ہے کیونکہ اس کے پاس وسائل نہیں، حالانکہ اصل مسئلہ وسائل کے درست استعمال کا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب کے پاس جو پیسہ ہے وہ پنجاب کے عوام کے ٹیکس کا ہے اور وہ عوام ہی پر خرچ کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق، پنجاب کے اسپتالوں میں دوسرے صوبوں کے مریضوں کا علاج ہو رہا ہے، ہارٹ سرجری اور کینسر جیسے مہنگے علاج کے لیے پورے ملک سے لوگ پنجاب آتے ہیں، جبکہ تعلیمی اداروں میں بھی تمام صوبوں کے طلبہ بلا امتیاز زیر تعلیم ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وہ پنجابی، سندھی، پختون یا بلوچ کی تفریق پر یقین نہیں رکھتیں کیونکہ ایسی تقسیم ملک کو کمزور کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے دروازے ہمیشہ دوسرے صوبوں کے عوام کے لیے کھلے ہیں اور نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے طلبہ ہمارے مہمان ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے ورکشاپ میں شریک تمام طلبہ کو لیپ ٹاپ دینے کا اعلان بھی کیا اور وفد کو بلوچ چادر پہنائی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں سفارش اور رشوت کا کلچر ختم کر دیا گیا ہے اور وہ حلفاً کہہ سکتی ہیں کہ اپنے دور میں ایک بھی شخص سفارش پر تعینات نہیں کیا۔
ان کے مطابق، وہ روزانہ درجنوں انٹرویوز خود کرتی ہیں، اسی وجہ سے صوبے میں میرٹ بحال ہوا اور جرائم کی شرح 100 فیصد سے کم ہو کر 30 فیصد تک آ گئی ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ سیف سٹی اور سی سی ڈی جیسے جدید نظام کے باعث جرائم، ہراسانی اور زیادتی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے اور اب ہیلمٹ کے بغیر موٹرسائیکل سوار شاذونادر ہی نظر آتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں ترقیاتی اسکیمیں عوام کے پیسے سے چل رہی ہیں، انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے بغیر صنعتی ترقی ممکن نہیں، اور اگر حکمران یہ فیصلہ کرلیں کہ کام کر کے جانا ہے تو وسائل کے باوجود یا کمی کے باوجود بھی نتائج سامنے آتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ اس پروپیگنڈے میں نہ آئیں کہ کسی صوبے کو زیادہ یا کم پیسہ ملتا ہے بلکہ اپنی حکومتوں سے شائستگی کے ساتھ سوال کریں کہ عوام کے پیسے عوام پر کیوں خرچ نہیں ہو رہے۔

