ایران میں احتجاج، آیت اللہ خامنہ ای کے روس منتقلی کے مبینہ پلان پر تہران کی تردید

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے متعلق روس منتقلی کے مبینہ پلان بی کی خبروں پر ایرانی حکام کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ گیا ہے۔

برطانوی اخبار دی ٹائمز کی انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملک میں جاری احتجاج اور بڑھتے حکومتی دباؤ کے باعث آیت اللہ خامنہ ای نے انتہائی حالات میں ایران چھوڑ کر روس منتقل ہونے کا متبادل منصوبہ تیار کر رکھا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اگر حکومت مخالف مظاہرے اس حد تک بڑھ گئے کہ سیکیورٹی فورسز قابو پانے میں ناکام ہو جائیں یا احکامات ماننے سے انکار کر دیں تو سپریم لیڈر اپنے قریبی حلقے، اہل خانہ اور ممکنہ طور پر اپنے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے ہمراہ ماسکو جا سکتے ہیں، جہاں روسی حمایت اور مضبوط سفارتی تعلقات کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران میں مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی، بے روزگاری اور امریکی پابندیوں نے عوامی اضطراب میں اضافہ کیا ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر احتجاج سامنے آ رہا ہے، جبکہ سیکیورٹی اداروں پر مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کا دباؤ ہے۔

دوسری جانب، اسلام آباد میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ان خبروں کو جھوٹا اور مضحکہ خیز پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر عوام اور ملک کے چوکس سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور دشمن عناصر ایک بار پھر غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای نہ صرف عوامی حمایت رکھتے ہیں بلکہ ایرانی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کی حیثیت سے مضبوط اور ثابت قدم قیادت فراہم کر رہے ہیں۔

ایرانی سفیر نے اپنے مؤقف کے ساتھ آیت اللہ خامنہ ای کی رائفل تھامے تصویر بھی جاری کی اور کہا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل دہشت گردی اور غلط معلومات عام ہو چکی ہیں، تاہم ایران کی قیادت ہر قسم کے دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔