محسن نقوی کا منی لانڈرنگ، جعلی ادویات اور انسانی اسمگلنگ مافیا کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا حکم

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے منی لانڈرنگ، جعلی ادویات اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے ایف آئی اے کراچی زون کا دورہ کیا اور کراچی زون اور ساؤتھ زون کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اجلاس کے دوران، محسن نقوی نے منی لانڈرنگ میں ملوث مافیا کے خلاف بلاامتیاز اور بھرپور کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بڑے منی لانڈرز پر مضبوط ہاتھ ڈالا جائے اور منی لانڈرنگ میں ملوث عناصر کی مکمل منی ٹریل بے نقاب کی جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حوالہ ہنڈی کا کاروبار کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور عملی طور پر بلاامتیاز ایکشن نظر آنا چاہیے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹس مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ معصوم لوگوں کو جھانسہ دے کر بیرون ملک بھجوانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، ان کے خلاف بغیر کسی دباؤ کے کارروائی کی جائے۔

انہوں نے جعلی ادویات کے کاروبار کو انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مکروہ دھندے میں ملوث عناصر کو قانون کی گرفت میں لانا ناگزیر ہے۔

محسن نقوی نے ایف آئی اے کراچی زون میں انسانی وسائل کی کمی کو ترجیحی بنیادوں پر دور کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ادارے کو تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے اور کارکردگی کے ذریعے ایف آئی اے کی نیک نامی کو مزید بہتر بنانا ہے۔

اجلاس میں ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چار ماہ میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث 20 ایجنٹس گرفتار کیے گئے، 140 ملین روپے مالیت کی نان کسٹم مصنوعات اور منشیات ضبط کی گئیں جبکہ مسافروں کی سہولت کے لیے کراچی ایئرپورٹ پر سہولت سینٹر بھی قائم کر دیا گیا ہے۔

دریں اثنا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ ایف آئی اے نے بیرون ملک جانے والے مسافروں کی سہولت کے لیے ملک بھر کے تمام زونل دفاتر میں فوری طور پر ’’پری ڈیپارچر فیسلی ٹیشن ڈیسک‘‘ قائم کر دیے ہیں۔

ان ڈیسکوں کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کو امیگریشن کے طریقہ کار، کلیئرنس اور قانونی امور سے متعلق بروقت رہنمائی فراہم کرنا ہے۔

ان کے مطابق، مسافر ذاتی طور پر، ہیلپ لائنز اور ای میل کے ذریعے ان ڈیسکوں سے رجوع کر سکتے ہیں جبکہ تمام تفصیلات ہوائی اڈوں، سرحدی مقامات اور ایف آئی اے کی ویب سائٹ پر دستیاب ہوں گی۔