چین نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو فوری طور پر رہا کرے اور وینزویلا کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں بند کرے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکا کی جانب سے وینزویلا پر حملہ اور طاقت کے استعمال کے ذریعے صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کرنا بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہے، جس پر چین کو شدید تشویش ہے۔
بیان میں زور دیا گیا کہ امریکا مادورو اور ان کی اہلیہ کی ذاتی سلامتی کو یقینی بنائے اور مسئلے کو فوجی کارروائی کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔
چین نے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں عدم استحکام کو بڑھاتے ہیں اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔
امریکی کارروائی پر روس، کولمبیا اور کیوبا نے بھی مذمت کی ہے جبکہ ایران نے سلامتی کونسل سے فوری کارروائی اور ذمے داروں کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی امریکی حملے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے احترام پر زور دیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں پریس کانفرنس کے دوران صدر مادورو کے خلاف کرمنل چارجز کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی فوج نے وینزویلا میں غیرمعمولی آپریشن کیا اور مادورو و ان کی اہلیہ کو نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے۔

