اسلام آباد: رہنما پیپلز پارٹی قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے لوگ مذاکرات کے خواہاں ہیں لیکن اس میں رکاوٹ خود پارٹی کے بانی ہیں، جس کی وجہ سے مذاکرات کا عمل جاری نظر نہیں آ رہا۔
پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ دونوں فریق ڈیڈ لاک کے ذریعے اپنا راستہ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن بانی پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ سیاستدانوں سے مذاکرات نہیں کیے جائیں، جبکہ ادارے بھی براہ راست مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی کوئی ایسا واقعہ چاہتے ہیں جس سے عوامی دباؤ بڑھے اور حکومت مجبور ہو جائے، اور اسی لیے سہیل آفریدی کو معاملات میں لایا گیا تاکہ تصادم کو مزید بڑھایا جا سکے۔ قمر زمان کائرہ کے مطابق پی ٹی آئی والے بنیادی طور پر تصادم چاہتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے لیے بڑا امتحان کھڑا کرنے کی پوزیشن میں نہیں، وہ صرف سیاست کے لیے بحران پیدا کر رہے ہیں، اور عوامی دباؤ کے ذریعے حکومت پر کوئی مؤثر اثر ڈالنے میں ناکام رہے ہیں۔
رہنما پیپلز پارٹی نے زور دیا کہ جمہوریت میں مذاکرات ناگزیر ہیں اور اگر مذاکرات نہ ہوں تو جمہوریت ڈی ریل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ یا ملک کے کسی بھی حصے میں سہیل آفریدی کا جانا ان کا حق ہے اور حکومت ان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ لاہور کے حالیہ دورے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مناسب بات چیت کے لیے وزیر اعلیٰ کے پی کو دورے کی دعوت دی جائے گی۔

