فلوریڈا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اقتدار کی منتقلی تک وینزویلا کے معاملات امریکا خود چلائے گا اور امریکی تیل کی بڑی کمپنیاں وینزویلا جائیں گی۔
فلوریڈا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف کریمنل چارجز عائد کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے جہاں انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ٹرمپ کے مطابق، ان کی ہدایت پر امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں ایک غیر معمولی فوجی آپریشن کیا جس میں فضائی، زمینی اور بحری طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی فورسز نے ان کے بیڈروم سے گرفتار کیا، اس وقت کاراکاس مکمل اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اور بجلی بند تھی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یہ آپریشن انتہائی درستگی سے انجام دیا گیا اور دنیا میں کوئی اور ملک اس نوعیت کی کارروائی نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کو انہوں نے فوجی جنرلز کے ہمراہ لائیو دیکھا، جیسے کوئی ٹی وی شو دیکھا جا رہا ہو۔
صدر ٹرمپ کے مطابق، مادورو کو امریکی بحری جہاز کے ذریعے نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ان پر منشیات اور اسلحہ اسمگلنگ سمیت سنگین الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ حملے کے لیے بھی امریکا تیار ہے، تاہم فی الحال اقتدار کی منتقلی تک وینزویلا کی نگرانی اور انتظام امریکا کے پاس رہے گا۔
دوسری جانب، وینزویلا نے امریکی حملے کو جارحیت قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا کا اصل مقصد وینزویلا کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔

