واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی کے دوران وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا نے وینزویلا اور اس کی قیادت کے خلاف کامیاب فوجی کارروائی کی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، حملوں کے دوران وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس سمیت متعدد ریاستوں میں کم از کم سات دھماکے سنے گئے، جبکہ فوجی تنصیبات اور وزارت دفاع کو نشانہ بنایا گیا۔
وینزویلا حکومت نے تصدیق کی ہے کہ حملے کاراکاس، میرانڈا، آراگوا اور لاگویرا میں ہوئے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا کا مقصد وینزویلا کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنا ہے، تاہم امریکا اس میں کامیاب نہیں ہوگا۔
حملوں کے بعد وینزویلا میں قومی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب، روسی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ امریکی حملوں میں وینزویلا کے دفاعی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا اور صدر مادورو صدارتی محل چھوڑ کر محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے ہیں۔
کولمبیا کے صدر نے بھی کاراکاس پر میزائل حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
تاحال وینزویلا حکومت کی جانب سے صدر مادورو کی گرفتاری کے امریکی دعوے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

