پشاور میں سینئر صحافیوں سے غیر رسمی ملاقاتوں کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے انہیں اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کا کوئی ٹاسک نہیں دیا، تاہم صوبائی معاملات پر اسٹیبلشمنٹ سے رابطے اور تعلقات بہتر بنانے کے لیے تیار ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کا معاملہ محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے سپرد ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی جا رہی، ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہونی چاہیے اور ڈرون حملے بند ہونے چاہئیں۔
ان کے مطابق، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو عوامی مفادات کے مطابق پالیسی بنانی چاہیے اور اگر کوئی تقریب یا میٹنگ ہوئی تو فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات ضرور کریں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پشاور کی ترقی کریں گے مگر لاہور کی طرح پابندیوں والا ماڈل نہیں اپنایا جائے گا، وفاق نے ضم اضلاع کے لیے اے آئی پی کے تحت 700 ارب روپے کے بقایاجات ادا نہیں کیے، برسوں میں صرف 168 ارب روپے دیے گئے، جبکہ بجلی کے خالص منافع سمیت وفاق پر خیبرپختونخوا کے چار ہزار ارب روپے سے زائد واجب الادا ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے حالات اور ماحول سازگار ہونا چاہیے، پارٹی قیادت کو مضبوطی سے میدان میں آنا ہوگا، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی جدوجہد جائز ہے، لاہور اور کراچی کے دوروں کا مقصد عوامی بیداری اور رہائی کے لیے متحرک کرنا ہے کیونکہ بانی پی ٹی آئی پورے ملک کے لیڈر ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس، شفافیت، میرٹ اور ترقی کو حکومت کے بنیادی اصول قرار دیا اور کہا کہ ضم اضلاع کے لیے مختص 1000 ارب میں سے 700 ارب سے زائد ابھی مرکز کے ذمے ہیں، ملنے والی رقم ترتیب سے خرچ کی جائے گی، ترقی سے عسکریت پسندی میں کمی آئے گی، امن و امان اصل چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیراہ سمیت جہاں بھی نقل مکانی ہوگی، معاوضہ صوبائی حکومت ادا کرے گی، آپریشنز کے مخالف ہیں اور اسی مقصد کے لیے صوبائی اسمبلی میں گرینڈ جرگہ بلایا گیا۔
صحافیوں سے مخاطب ہو کر انہوں نے اپیل کی کہ سنی سنائی بات رپورٹ کرنے سے پہلے رابطہ کیا جائے، وفاق اگر بقایاجات ادا کرے تو تعلیم و صحت سمیت سہولیات بہتر ہو سکتی ہیں۔
بجلی کے مسئلے کے مستقل حل، ٹرانسمیشن لائن، پیسکو کی واجب الادا رقوم اور خالص منافع کے حل پر کام جاری ہے اور پیسکو کو صوبائی کنٹرول میں لینے کا امکان بھی زیر غور ہے۔
لاہور دورے کے دوران، نامناسب زبان کے استعمال پر معذرت کرتے ہوئے انہوں نے پنجاب میں بدسلوکی اور حراستوں کا شکوہ کیا، کراچی دورے کی تیاری اور 8 فروری کے احتجاج کو ہر صورت یقینی قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ سابقہ وزرا سے گاڑیاں واپس لے لی گئی ہیں، دفاتر کے تالے کھلوا دیے گئے ہیں، پشاور-ڈیرہ موٹروے پر 10 دن میں رپورٹ طلب کی گئی، کابینہ میں توسیع جلد ہوگی اور 100 دنوں کی کارکردگی پیش کی جائے گی۔

