بھارتی سیاست میں پلوامہ حملے سے متعلق ایک بار پھر شدید بحث نے جنم لے لیا ہے۔
سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما سنتان پانڈے نے مودی سرکار پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ 2019 میں ہونے والا پلوامہ حملہ کسی غیر ملکی کارروائی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے رچایا گیا ایک سیاسی ڈرامہ تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سنتان پانڈے کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے عوامی جذبات کو بھڑکانے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے پلوامہ واقعے کو استعمال کیا، جبکہ حقیقت کو چھپانے کے لیے جھوٹا بیانیہ تشکیل دیا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ حملے میں استعمال ہونے والا آر ڈی ایکس کہاں سے آیا، جس کا جواب آج تک مودی حکومت عوام کو نہیں دے سکی۔
ان کا کہنا تھا کہ بغیر کسی شفاف تحقیقات اور ٹھوس شواہد کے پاکستان پر الزام عائد کرنا مودی حکومت کی پرانی عادت بن چکا ہے۔
سنتان پانڈے نے مزید الزام لگایا کہ بمبئی حملہ، پلوامہ حملہ، سمجھوتہ ایکسپریس اور پہلگام جیسے واقعات کو فالس فلیگ آپریشنز کے طور پر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، جو مودی حکومت کے مذموم اہداف کے حصول کا پرانا طریقہ ہے۔
یاد رہے کہ بھارت نے پلوامہ (2019) اور بعد ازاں پہلگام (2025) کے واقعات کا الزام پاکستان پر عائد کیا، تاہم پاکستان نے ہر بین الاقوامی فورم پر ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے شواہد پیش کرنے کی صورت میں تعاون کی پیشکش کی، جبکہ بھارتی حکومت تاحال کوئی قابلِ تصدیق ثبوت فراہم نہ کر سکی۔
سنتان پانڈے کے ان بیانات کے بعد بھارت میں پلوامہ حملے سے متعلق سوالات اور بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔

