پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات اور قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ مکمل

اسلام آباد: پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات اور سہولتوں کی فہرستوں کا سالانہ تبادلہ مکمل ہو گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ نئے سال کے آغاز پر دونوں ممالک نے قیدیوں کی فہرستوں کا بھی تبادلہ کیا۔

پاکستان کی جانب سے بھارت میں موجود پاکستانی قیدیوں کی فہرست نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو فراہم کی گئی جبکہ پاکستان میں موجود 257 بھارتی قیدیوں کی فہرست بھارتی حکام کے حوالے کی گئی۔

ترجمان کے مطابق، پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ ہر سال یکم جنوری کو کیا جاتا ہے، جو 31 دسمبر 1988 کو طے پانے والے معاہدے کے تحت ہے۔

اس معاہدے کے مطابق، دونوں ممالک ایک دوسرے کو اپنی جوہری تنصیبات اور سہولتوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے پابند ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان یمن میں صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے علاقائی اور سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے اور یمن کے تنازعے کے پُرامن حل کی حمایت کرتا ہے، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ بھی کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو الگ ملک تسلیم کرنے کے اقدام کو مسترد کرتا ہے اور صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔