افغانستان سے تاجکستان کی سرحد پر دہشت گردوں کے حملے میں تاجکستان کے دو سرحدی محافظ جاں بحق جبکہ جوابی کارروائی میں تین دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق، یہ واقعہ تاجکستان کے صوبہ ختلان کے ضلع شمس الدین شاہین اور افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے درمیان سرحدی علاقے میں پیش آیا۔
تاجک نیشنل سکیورٹی حکام نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے تاجک فورسز نے بروقت کارروائی کی، تاہم فائرنگ کے تبادلے میں دو اہلکار شہید ہو گئے۔
تاجک سرکاری خبر رساں ایجنسی خاور کے مطابق، ہلاک دہشت گردوں کی شناخت اور تنظیم سے وابستگی ظاہر نہیں کی گئی، تاہم ان کے قبضے سے جدید اسلحہ، دستی بم، نائٹ ویژن آلات اور بڑی مقدار میں گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
تاجک حکام نے اس واقعے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ میں افغانستان سے دراندازی اور دہشت گردی کا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے جس میں تاجک فوجی اہلکاروں کی جانیں گئیں۔
تاجکستان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بار بار ہونے والے یہ حملے افغان طالبان انتظامیہ کی جانب سے بین الاقوامی وعدوں اور سرحدی سلامتی سے متعلق ذمہ داریوں کی سنگین غفلت کا ثبوت ہیں۔
تاجک حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان قیادت تاجک عوام سے معافی مانگے اور اپنی سرحدوں پر مؤثر سکیورٹی اقدامات کو یقینی بنائے۔
تاجک حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنتا جا رہا ہے جہاں سے سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد ہو رہا ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ تاجک فورسز اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور کسی بھی بیرونی جارحیت یا اسمگلنگ کی کوشش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ چند روز کے دوران افغانستان سے تاجکستان پر یہ تیسرا سرحد پار حملہ ہے، جس نے خطے میں سلامتی سے متعلق عالمی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

