بنگلا دیش اور بھارت میں کشیدگی میں اضافہ، نئی دہلی میں قونصلر و ویزا سروسز معطل

بنگلا دیش اور بھارت کے درمیان سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، بنگلا دیش نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں اپنی قونصلر اور ویزا سروسز عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔

بنگلا دیشی مشن کے مطابق، موجودہ حالات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور سروسز تاحکمِ ثانی معطل رہیں گی۔

بنگلا دیشی میڈیا کا کہنا ہے کہ دو روز قبل نئی دہلی میں واقع بنگلا دیشی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا، جس کے دوران بھارتی مظاہرین کی جانب سے ہائی کمشنر کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ اسی تناظر میں بنگلا دیشی حکام نے اپنے سفارتی عملے اور شہریوں کی سلامتی کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

ادھر بھارتی میڈیا کے مطابق، بھارت نے بھی ایک روز قبل چٹاگانگ میں اپنا ویزا سینٹر بند کر دیا تھا، خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ مظاہرین اسے نذرِ آتش کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب، بنگلا دیش میں طلبا رہنما عثمان ہادی کے پُراسرار قتل میں بھارت کے ممکنہ کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید تناؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، بنگلا دیش میں یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ قاتل اور سہولت کار غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے بھارت فرار ہوئے، جس کے شواہد سوشل میڈیا پر بھی گردش کر رہے ہیں۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان کے بھارت میں پناہ لینے پر بنگلا دیش پہلے ہی شدید تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔

بنگلا دیشی تفتیشی اداروں اور عدالتوں کی جانب سے شیخ حسینہ کو حکومت مخالف طلبا تحریک کے خلاف مبینہ قتلِ عام پر مجرم قرار دے کر سزائیں سنائی جا چکی ہیں، تاہم عبوری حکومت کی بارہا درخواستوں کے باوجود بھارت نے تاحال انہیں حوالے نہیں کیا۔

عثمان ہادی کے قتل کے بعد مطالبہ زور پکڑ گیا ہے کہ بھارت نہ صرف شیخ حسینہ واجد بلکہ اس قتل میں ملوث افراد کو بھی بنگلا دیش کے حوالے کرے تاکہ قانون کی عمل داری ممکن ہو سکے۔

ابتدائی تحقیقات میں مرکزی ملزم کی شناخت اور اس کے بھارت فرار ہونے کے شواہد سامنے آنے کے بعد بنگلا دیش نے قونصلر اور ویزا سروسز کی معطلی کا بڑا سفارتی قدم اٹھایا ہے۔