امریکی کانگریس ارکان اور یو ایس سی آئی آر ایف قیادت کا بھارت کو عالمی مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت ’خصوصی تشویش کا حامل ملک‘ قرار دینے کا مطالبہ
امریکا کے ری پبلکن رکن کانگریس گلین گروتھمین، امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی (USCIRF) کی چیئرپرسن وکی ہرزلر اور نائب چیئرمین ڈاکٹر آصف محمود نے وزیر خارجہ مارکو روبیو سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو عالمی مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت خصوصی تشویش کا حامل ملک قرار دیا جائے۔
امریکی اخبار میں شائع مشترکہ مضمون میں تینوں رہنماؤں نے کہا کہ اگرچہ دنیا چین میں مذہبی آزادیوں کی صورتحال سے آگاہ ہے، تاہم افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والا بھارت بھی مذہبی آزادی کے حوالے سے بدترین صورتِ حال کی طرف بڑھ چکا ہے، جہاں ریاستی سطح پر مذہبی عقائد پر جبر اور ڈکٹیشن کا رجحان واضح ہو رہا ہے۔
مضمون میں نشاندہی کی گئی کہ 1928 کے بعد سے بھارت کی کم از کم 12 ریاستوں میں مذہب کی تبدیلی کے خلاف قوانین نافذ ہیں، جنہیں حکام سیکڑوں افراد کی ناجائز گرفتاریوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ان قوانین کے تحت مذہبی رہنماؤں پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو مسیحیت یا اسلام قبول کرانے میں ملوث ہیں، جبکہ کئی معاملات میں مذہبی کشیدگی اور تشدد کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
امریکی رہنماؤں نے ریاست گوا کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں ’لو جہاد‘ جیسے ہندو قوم پرستانہ اور سازشی نظریات کی بنیاد پر سخت قوانین متعارف کرانے کی بات کی گئی، جن کا مقصد مسلم اقلیت کو نشانہ بنانا ہے۔
اسی طرح اتر پردیش میں ایک مسیحی پادری اور ان کی اہلیہ پر تعلیم اور خوراک کے پروگراموں کے ذریعے لوگوں کو مذہب تبدیل کرانے کے بے بنیاد الزامات لگائے گئے، جبکہ مدھیہ پردیش میں جبری تبدیلیٔ مذہب کے الزام پر سزائے موت تجویز کیے جانے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
امریکی رہنماؤں کے مطابق بھارت میں مذہبی اقلیتوں کی آزادی سلب کی جا رہی ہے اور بے گناہ شہریوں کو منظم طریقے سے نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جو انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
مضمون میں کہا گیا کہ اگر بھارت واقعی امریکا کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا چاہتا ہے تو اسے اینٹی کنورژن قوانین ختم کر کے عملی طور پر مذہبی آزادی کے عالمی معیار پر پورا اترنا ہوگا۔
تینوں رہنماؤں نے واضح کیا کہ مذہبی حقوق کا احترام نہ صرف بھارت کے اندرونی استحکام بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ایک پاکستانی نژاد امریکی مسلمان، ڈاکٹر آصف محمود، اس اہم امریکی کمیشن میں قیادت کے منصب پر فائز ہیں، جن کا تعلق ریاست کیلیفورنیا سے ہے اور وہ پاکستان کے شہر کھاریاں سے امریکا منتقل ہوئے تھے۔

