بنگلادیش کے طلبہ رہنما شریف عثمان ہادی کی میت ڈھاکا پہنچ گئی، کل پارلیمنٹ میں نمازِ جنازہ

بنگلادیش کے معروف طلبہ رہنما اور سیاسی پلیٹ فارم ’’انقلاب منچہ‘‘ کے ترجمان شریف عثمان ہادی کی میت سنگاپور سے ڈھاکا پہنچا دی گئی۔

بنگلادیشی میڈیا کے مطابق، بنگلادیش ائیرلائن کا طیارہ آج شام ان کی میت لے کر دارالحکومت پہنچا، جہاں اسے قومی پرچم میں لپیٹا گیا تھا اور ایئرپورٹ پر ہزاروں طلبہ، سیاسی کارکنوں اور عبوری حکومت کے وزرا نے استقبال کیا۔

چیف ایڈوائزر کے پریس ونگ کے مطابق، شریف عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ کل دوپہر 2 بجے بنگلادیشی پارلیمنٹ کے ساؤتھ پلازا میں ادا کی جائے گی، جبکہ سیکیورٹی خدشات کے باعث جنازے میں شرکت کرنے والوں کو بیگ یا بھاری اشیا ساتھ لانے سے روک دیا گیا ہے اور پارلیمنٹ ہاؤس و اطراف میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے شریف عثمان ہادی کے انتقال پر ہفتے کے روز ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے، جس کے دوران قومی پرچم سرنگوں رہے گا اور سرکاری تقریبات محدود رکھی جائیں گی۔

واضح رہے کہ شریف عثمان ہادی 12 دسمبر کو ڈھاکا کے علاقے پرانا پلٹن میں انتخابی مہم کے دوران فائرنگ کے ایک حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے، جہاں حملہ آوروں کی گولی ان کے سر پر لگی۔

انہیں ابتدا میں ڈھاکا میڈیکل کالج اسپتال اور بعد ازاں ایور کیئر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم حالت میں بہتری نہ آنے پر بہتر علاج کے لیے 15 دسمبر کو سنگاپور لے جایا گیا، جہاں وہ سنگاپور جنرل اسپتال میں دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔

یاد رہے کہ شریف عثمان ہادی کو سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے طویل دورِ حکومت کے خلاف طلبہ تحریک کا نمایاں رہنما سمجھا جاتا تھا۔

ان کی شہادت کے بعد ڈھاکا سمیت مختلف شہروں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں طلبہ نے احتجاج کرتے ہوئے عوامی لیگ کے دفاتر کو نذرِ آتش کیا اور ہنگامے پھوٹ پڑے۔

طلبہ تنظیموں اور سیاسی حلقوں نے عثمان ہادی کے قتل کو جمہوری آواز دبانے کی منظم سازش قرار دیا ہے، جبکہ رپورٹوں کے مطابق حملہ آور واردات کے بعد فرار ہو گئے تھے۔