آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے بونڈی ساحل پر ہونے والے حملے سے متعلق اہم انکشافات سامنے آ گئے ہیں، جن کے مطابق بھارتی سفارتخانے کو واقعے کے پہلے ہی دن حملہ آور کی بھارتی شہریت کا علم تھا، تاہم اس کے باوجود جان بوجھ کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔
سڈنی حملے میں مبینہ طور پر ملوث بھارتی شہری ساجد اکرم اور اس کے بیٹے نوید اکرم کے بھارتی پاسپورٹس منظرِ عام پر آ گئے ہیں، جن سے ان کی بھارتی شہریت کی تصدیق ہو گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق ساجد اکرم کا پاسپورٹ بھارتی سفارتخانے نے 24 فروری 2022 کو 10 سال کے لیے جاری کیا تھا، جس کی معیاد 23 فروری 2032 تک ہے اور اس پر بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد کا پتہ درج ہے۔
ان شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ بھارتی حکام کو ابتدا ہی سے حملہ آور کی شناخت اور شہریت کا مکمل علم تھا، مگر حقیقت چھپا کر بھارتی میڈیا کو پاکستان پر الزام تراشی کے لیے وقت دیا گیا۔
واقعے کے فوراً بعد بھارتی میڈیا کی جانب سے حملہ آور کو پاکستانی ظاہر کرنے کی منظم اور گمراہ کن مہم چلائی گئی، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا تھا، تاہم اگلے ہی روز یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ حملہ آور پاکستانی نہیں بلکہ بھارتی شہری تھا۔
برطانوی جریدے دی گارجین کے مطابق، آسٹریلیا نے 2020 میں بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کے دو اہلکاروں کو غیر قانونی سرگرمیوں اور آسٹریلیا میں مقیم بھارتی شہریوں کی پروفائلنگ پر ملک بدر کیا تھا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ سڈنی حملے میں ملوث دہشتگردوں کے بھارتی خفیہ ایجنسی سے روابط کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جبکہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ساجد اکرم نے چند روز قبل بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا تھا۔
تازہ انکشافات کے بعد سڈنی حملے سے متعلق پاکستان پر عائد الزامات بے بنیاد ثابت ہو گئے ہیں اور بھارتی حکام و میڈیا کے کردار پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

