ایف بی آر کو رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں 601 ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال، فروری میں 133 ارب کا خسارہ
مقررہ ہدف سے 604 ارب روپے کم ٹیکس وصولیاں، حکام کا کہنا ہے کہ آخری چار ماہ میں بہتری کی توقع ہے۔
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال 2024-25 کے پہلے 8 ماہ (جولائی تا فروری) کے دوران مجموعی طور پر 601 ارب روپے کے عبوری ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے، جبکہ گزشتہ ماہ فروری میں 133 ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال ریکارڈ کیا گیا۔
ایف بی آر کے سینئر افسر نے بتایا کہ ایف بی آر نے رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران 7344 ارب روپے کا عبوری ٹیکس جمع کیا ہے، جبکہ اس عرصے کا مقررہ ہدف 7947 ارب روپے تھا۔ اس کے نتیجے میں 604 ارب روپے کا شارٹ فال سامنے آیا۔ فروری 2025 میں ایف بی آر نے 850 ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا، جب کہ اس کا مقررہ ہدف 983 ارب روپے تھا، جس کی وجہ سے فروری میں 133 ارب روپے کا شارٹ فال رہا۔
یاد رہے کہ مالی سال کے پہلے 7 ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران بھی ایف بی آر کو 468 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا تھا، جس کی بڑی وجوہات میں مستحکم ایکسچینج ریٹ، توقع سے کم مہنگائی، پیداوار میں سست روی اور جی ڈی پی کی کم شرح نمو شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق، حکومت کی جانب سے بجٹ 2024-25 میں فنانس ایکٹ 2024 کے تحت 1.3 کھرب روپے کے پالیسی اقدامات بھی توقعات کے مطابق نتائج نہیں دے سکے، جس کی وجوہات میں جائیداد کے شعبے میں تبدیلی، تاجروں کے بدلتے رویے اور تخمینہ جاتی غلطیاں شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مالی سال کے آخری چار ماہ (مارچ تا جون 2025) میں ٹیکس وصولیوں میں بہتری کی توقع ہے اور اس دوران خودکار نمو کے نتیجے میں مزید نقصان نہیں ہوگا۔

