آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے بونڈی بیچ پر پیش آنے والے خونریز حملے سے متعلق بھارتی میڈیا نے بالآخر اعتراف کر لیا ہے کہ حملہ آور ساجد اکرم بھارتی شہری تھا اور اس کا تعلق بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد سے تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ساجد اکرم 1998 میں بھارت سے آسٹریلیا منتقل ہوا، جہاں اس نے مستقل سکونت اختیار کی۔
بھارتی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ ساجد اکرم بھارتی ریاست تلنگانہ کا رہائشی تھا، جبکہ اس کا بیٹا نوید اکرم آسٹریلیا میں پیدا ہوا اور آسٹریلوی شہریت رکھتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ساجد اکرم اسٹوڈنٹ ویزے پر آسٹریلیا گیا تھا اور بعد ازاں 2001 میں اسے پارٹنر ویزا ملا، جبکہ گزشتہ برسوں کے دوران وہ متعدد مرتبہ بھارت کا سفر بھی کر چکا تھا۔
واضح رہے کہ واقعے کے فوراً بعد اسرائیلی اور بھارتی میڈیا کی جانب سے بغیر تصدیق پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کیا گیا اور حملہ آوروں کو پاکستانی قرار دینے کی کوشش کی گئی، تاہم بعد میں بین الاقوامی میڈیا اور پھر خود بھارتی میڈیا نے حقائق تسلیم کرتے ہوئے حملہ آور کے بھارتی پس منظر کی تصدیق کر دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، ساجد اکرم اور اس کے بیٹے نے نومبر میں فلپائن کا سفر بھی کیا تھا، جہاں والد نے بھارتی پاسپورٹ اور بیٹے نے آسٹریلوی پاسپورٹ پر سفر کیا، تاہم اس سفر کے مقاصد اور کسی دہشت گرد تنظیم سے ممکنہ روابط کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔
آسٹریلوی حکام نے حملہ آور کے پس منظر، سفری تفصیلات اور ممکنہ روابط سے متعلق معلومات کے لیے بھارتی انٹیلی جنس اداروں سے رابطہ کیا ہے۔
اس اعتراف کے بعد واضح ہو گیا ہے کہ بونڈی بیچ حملے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوششیں بے بنیاد تھیں اور بھارتی میڈیا کا پاکستان مخالف بیانیہ خود اس کی رپورٹس کے ذریعے بے نقاب ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے بونڈی ساحل پر دو حملہ آوروں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک حملہ آور سمیت 16 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہو گئے۔

