میر رضا کیس: سندھ حکومت کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ

کراچی: سندھ کابینہ نے کراچی کے 25 سالہ نوجوان تاجر اور آئی بی اے گریجویٹ میر رضا علی خان کے قتل کے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے سندھ ہائیکورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنانے کی منظوری دے دی ہے، تاہم مقتول کے والدین نے حکومتِ سندھ کا یہ فیصلہ مسترد کرتے ہوئے عدالتِ عالیہ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سندھ کابینہ اراکین سے سرکولیشن کی سمری کے ذریعے جوڈیشل کمیشن کے قیام اور ٹرمز آف ریفرنس (TORs) کی منظوری لی گئی، جس کے بعد حکومت نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط ارسال کر دیا ہے۔

ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق سندھ ٹریبونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے تحت قائم یہ کمیشن 30 دنوں کے اندر اپنی جائزہ رپورٹ جمع کروائے گا اور اسے پولیس، میڈیکو لیگل افسران کی غفلت، شواہد میں ردوبدل اور مزید فارنزک تحقیقات کی سفارش کا کامل اختیار ہوگا۔

دوسری جانب مقتول میر رضا کے والد اور ان کے وکیل جبران ناصر نے سندھ حکومت کے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ خاندان کو اعتماد میں لیے بغیر کیا ہے اور پہلے سے جاری پولیس تفتیش میں بدعنوانی کی پردہ پوشی کی کوشش کی جا رہی ہے۔

خاندان نے واضح کیا کہ کیس میں جے آئی ٹی کی تشکیل اور غفلت برتنے والے پولیس حکام کے خلاف کارروائی زیادہ ضروری ہے، جس کے لیے وہ سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کریں گے۔

میر رضا علی خان 28 جولائی 2026 کی شب پراسرار طور پر لاپتا ہوئے تھے، جس کے بعد 29 جولائی کو گلستانِ جوہر میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب سے ان کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ پولیس سرجن کی جانب سے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 14 سنگین خامیوں کی نشاندہی کے بعد کیس میں تفتیشی پیش رفت اور پولیس و میڈیکو لیگل ٹیم کا کردار متنازع بن گیا تھا۔