ایران سے جنگ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کی کمزوری عیاں کر دی: فنانشل ٹائمز

واشنگٹن: برطانوی جریدے ’فنانشل ٹائمز‘ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تقریباً 6 ماہ جاری رہنے والی جنگ نے مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کی شدید کمزوری کو عیاں کر دیا ہے اور خلیج میں واشنگٹن کی دہائیوں پر محیط عسکری موجودگی کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

اخبار کے مطابق ایران کے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرون حملوں نے ثابت کر دیا کہ ایرانی ساحلوں کے قریب واقع بڑے امریکی فوجی اڈے کس قدر غیر محفوظ ہیں۔

ان حملوں کے باعث پینٹاگون کو اپنے جنگی طیاروں، ڈرونز اور اہلکاروں کو اسرائیل، اردن اور یورپ کے دور دراز قواعد پر منتقل کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ واشنگٹن کے تھنک ٹینک امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ (AEI) کے تخمینے کے مطابق 7 ممالک میں موجود 11 متاثرہ امریکی اڈوں کی تعمیرِ نو اور مرمت پر تقریباً 5 ارب ڈالر کے اخراجات آئیں گے۔

رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کو اب یہ اہم فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ تباہ شدہ تنصیبات پر اربوں ڈالر دوبارہ خرچ کرے یا خطے میں اپنی ملٹری ڈائریکشن اور اسٹریٹجی کو ازسرنو ترتیب دے۔

دوسری جانب، خلیجی ممالک کی جانب سے بھی امریکا کے ’سیکیورٹی ضمانت‘ کے عزم پر تحفظات ظاہر کیے جا رہے ہیں اور وہ اب اپنی سلامتی کے لیے دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ بھی روابط قائم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔