واشنگٹن: ایلون مسک کی خلائی کمپنی ‘اسپیس ایکس’ (SpaceX) کے فالکن 9 راکٹ کا بالائی حصہ 5,400 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کی سطح سے ٹکرا گیا ہے، جس کے اثرات اور گرد و غبار کے بادلوں کے شواہد چلی میں موجود یورپیئن سدرن آبزرویٹری (ESO) کی ویری لارج ٹیلی اسکوپ نے محفوظ کر لیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 5 منزلہ عمارت جتنا بلند اور تقریباً 4 ٹن وزنی یہ راکٹ جنوری 2025 میں چاند کی جانب لینڈرز لے جانے کے لیے لانچ کیا گیا تھا۔ مشن کی تکمیل کے بعد یہ بالائی حصہ بے قابو ہو کر خلا میں گردش کر رہا تھا جو کہ بالآخر 3 ٹن ٹی این ٹی دھماکے کے برابر طاقت سے چاند کی سطح پر جا ٹکرایا۔ ٹکراؤ کا یہ واقعہ چاند کے اس حصے میں ہوا جو سورج کی روشنی اور تاریک حصے کی سرحد قرار دیا جاتا ہے۔
ای ایس او کی ٹیلی اسکوپ نے تصادم کے فوراً بعد چاند پر بننے والے درجنوں کلومیٹر بڑے گرد و غبار کے بادلوں سے نکلنے والی سوڈیم اور لیتھیم گیسوں کے ‘کیمیائی فنگر پرنٹس’ کو ریکارڈ کیا، جو کہ 5 سے 10 منٹ تک قائم رہے۔
ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ ناسا چونکہ چاند پر ایک مستحکم انسانی بیس قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، اس لیے انسان ساختہ خلائی کچرے (Space Debris) کے اس ٹکراؤ کا ڈیٹا مستقبل کے تجربات، قمری سطح کو سمجھنے اور خلائی ملبے کے نقصانات کا تجزیہ کرنے میں اہم ثابت ہو گا۔
ناسا کے ‘لونر ریکونیسنس آر بیٹر’ اور جنوبی کوریا کے پاتھ فائینڈر آربٹر کی مدد سے ٹکراؤ والے مقام سے بننے والے گڑھے کی تصاویر حاصل کی جائیں گی۔ ناسا نے واضح کیا ہے کہ اس واقعہ سے زمین کو کسی قسم کا خطر نہیں، تاہم یہ خلا میں بڑھتے ہوئے کچرے کا ایک سنجیدہ تذکُرہ ہے۔

