اسلام آباد: وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے تجویز دی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف تمام وفاقی وزارتوں اور وزراء کی کارکردگی کی جانچ کسی غیر جانبدار ”تھرڈ پارٹی“ (تیسرے فریق) سے کروائیں اور اس کے نتائج عوام کے سامنے رکھیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ کون سی وزارت کس حد تک فعال ہے۔
جیو نیوز سے خصوصی گفتگو اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وہ اپنی کارکردگی پر صرف وزیراعظم کو جوابدہ ہیں اور کابینہ میں ان کی حاضری تقریباً 70 فیصد رہی ہے۔ انہوں نے اپنے خلاف ہونے والی تنقید پر طنزاً شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ”جن لوگوں نے کہا میں نے 30 سال کا سفر 3 سال میں طے کیا، میں ان کا ممنون ہوں“۔
وزیر داخلہ نے ملک کے مجموعی نظام پر اپنے گزشتہ بیان پر قائم رہتے ہوئے وضاحت کی کہ انہوں نے گزشتہ 80 برسوں سے تباہ حال نظام کی بات کی تھی، نہ کہ موجودہ حکومت کو چارج شیٹ کیا۔ اگر یہ نظام درست ہوتا تو ملک آج کہیں زیادہ پیش رفت کر چکا ہوتا۔
انہوں نے وزیراعظم کی انتھک محنت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف روزانہ 14 سے 16 گھنٹے کام کر رہے ہیں اور انہی کی قیادت میں ایف بی آر ریونیو میں اضافہ، سفارتی کامیابیاں اور دیگر اصلاحات ممکن ہوئی ہیں۔
محسن نقوی نے ان افواہوں کو یکسر مسترد کر دیا کہ ان کے اور وزیراعظم کے تعلقات خراب ہیں اور واضح کیا کہ ”بعض لوگوں کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی؛ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرے گی اور شہباز شریف پورے 5 سال وزیراعظم رہیں گے“۔

