مزید جنگی جہاز نہ ملا تو اسرائیل کے بجائے امریکا کے دفاع کو ترجیح دیں گے، امریکی جنرل کا پینٹاگون کو انتباہ

واشنگٹن: امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ یورپ میں تعینات امریکی فوج کے اعلیٰ ترین جنرل الیکسس گرنکیوچ (Alexis Grynkewich) نے پینٹاگون کو تحریری طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر انہیں بحریہ کا ایک اور جنگی بحری جہاز (ڈسٹرائر) فراہم نہ کیا گیا تو وہ اسرائیل کے دفاع کے بجائے امریکا کے اپنے دفاع کو ترجیح دینے پر مجبور ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی یورپی کمان کے سربراہ جنرل گرنکیوچ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری 5 ماہ کے تنازع اور مسلسل فوجی کارروائیوں کے باعث امریکی بحریہ کے وسائل اور ہتھیاروں کے ذخائر پر شدید دباؤ بڑھ چکا ہے۔

اسرائیل کو بیلسٹک میزائلوں اور حوثیوں کے حملوں سے بچانے کے لیے بحیرہ روم میں موجود ڈسٹرائرز ناکافی ثابت ہو رہے ہیں، جبکہ مسلسل آپریشنز کی وجہ سے جہازوں کی مرمت و دیکھ بھال کے مسائل میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

اس وقت بحیرہ روم میں امریکی بحریہ کے دو ڈسٹرائرز (یو ایس ایس پال اِگنیشس اور یو ایس ایس روزویلٹ) موجود ہیں، جبکہ بحیرہ عرب میں طیارہ بردار بحری جہازوں یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش اور یو ایس ایس ابراہم لنکن سمیت 15 دیگر جنگی جہاز تعینات ہیں جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکابندی اور آبنائے ہرمز میں ‘آپریشن پروجیکٹ فریڈم’ کا حصہ ہیں۔

امریکی دفاعی حکام کے مطابق یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ محدود ملٹری ڈیوائسز اور ہتھیاروں کے حصول کے لیے مختلف امریکی کمانڈرز کے درمیان کھینچ تان جاری ہے۔

دوسری جانب، ایران کے ساتھ طویل ہوتی یہ جنگ امریکی عوام اور کانگریس میں بھی شدید غیر مقبول ہو رہی ہے، جہاں قانون سازوں کی جانب سے انتظامیہ سے تنازع کے فوری خاتمے کا واضح منصوبہ پیش کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔