تہران: خلیج میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید فوجی کشیدگی اور محدود جھڑپوں کو روکنے کے لیے بین الاقوامی ثالثوں (پاکستان اور قطر) کی جانب سے 10 روزہ عارضی جنگ بندی کی ہنگامی تجویز پیش کی گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اس جنگ بندی کی تجویز کا بنیادی مقصد گزشتہ ماہ طے پانے والے 14 نکاتی عبوری معاہدے اور مفاہمتی یادداشت کو دوبارہ فعال بنانا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تہران کو ثالثوں کی جانب سے کشیدگی میں کمی کی تجاویز موصول ہوئی ہیں جن کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے فی الحال ان تجاویز کی حتمی تفصیلات ظاہر کرنے سے گریز کیا۔
ترجمان نے واضح کیا کہ ایران کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کے عزم پر قائم ہے، تاہم ملکی مسلح افواج امریکی کارروائیوں کا دندان شکن جواب دے رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "سفارت کاری اور دفاع دونوں اپنے اپنے دائرہ کار میں اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں”۔
رپورٹ کے مطابق 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز میں سب سے اہم نقطہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو 10 دنوں سے لے کر دو ہفتوں کے لیے بحال کرنا اور اسے خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران، سلطنتِ عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے اور کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل پرعزم ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، تاہم حالیہ دنوں میں تعبیرات کے اختلاف اور سیکیورٹی واقعات کے باعث آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی تھی۔
سیاسی و دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 10 روزہ مجوزہ جنگ بندی فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی اور اسلام آباد یا دوحہ میں دوبارہ باضابطہ مذاکرات کا آغاز کرنے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

