آزاد کشمیر میں پرامن الیکشن ہضم نہیں ہوئے، پرتشدد جتھوں کو طاقت سے کچلا جائے گا: عطا تارڑ

راولا کوٹ: وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں پرامن، شفاف اور منصفانہ انتخابات انعقاد پذیر ہوئے، تاہم کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو یہ جمہوری عمل ہضم نہیں ہوا اور وہ پرتشدد کارروائیوں پر اتر آئی ہے جس سے اب قانون کی طاقت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے راولا کوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں تمام مرکزی سیاسی جماعتوں بشمول مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور آئی پی پی نے انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیا اور عوام نے بڑی تعداد میں باہر نکل کر جمہوری عمل پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ صرف میرپور ڈویژن میں 6 لاکھ سے زائد ووٹ کاسٹ ہوئے۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پرتشدد جتھے کو آزاد کشمیر کا امن، ترقی اور پاکستان کے ساتھ اس کا مضبوط رشتہ قابلِ قبول نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ عناصر بیرونی ایجنڈے اور بھارتی فنڈنگ پر کام کر رہے ہیں اور ان سے ممنوعہ اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت کشمیر کاز اور امن کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچنے دے گی۔

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا کہ یہ تحریک حقوق دلانے کے لیے نہیں بلکہ حقوق چھیننے کے لیے چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 37 مطالبات تسلیم کر لیے تھے، اس کے باوجود پرتشدد احتجاج کے ذریعے الیکشن روکنے کی کوشش کی گئی۔

طلال چوہدری نے کہا کہ مظاہرین سے کلاشنکوف، ایم 4 اور اسنائپر گنز جیسے جدید ہتھیار برآمد ہوئے ہیں جو سیکیورٹی فورسز کے خلاف استعمال کیے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت آزاد کشمیر حکومت کی مکمل پشتیبانی کرے گی اور ان فسادی عناصر اور ان کے سیاسی مقاصد کو قانون اور مکمل طاقت کے ساتھ کچلا جائے گا۔