خلائی تحقیق میں چین کا تاریخی کارنامہ؛ پہلی بار دوبارہ استعمال کے قابل "لانگ مارچ-10B” راکٹ کی کامیابی سے زمین پر واپسی
بیجنگ: خلائی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں چین نے ایک اور انتہائی اہم اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔
چین نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ دوبارہ استعمال کے قابل کیریئر راکٹ (Reusable Rocket) کو کامیابی کے ساتھ زمین پر واپس اتارنے کا کامیاب تجربہ انجام دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، یہ تاریخی لانچنگ جنوبی چینی صوبے ہائنان میں واقع "وینچانگ خلائی لانچ مرکز” سے کی گئی، جہاں "لانگ مارچ-10B” (Long March-10B) کیریئر راکٹ کو خلا کی جانب روانہ کیا گیا اور پھر انتہائی کامیابی کے ساتھ اس کی واپسی کو یقینی بنایا گیا۔
چینی خلائی حکام کے مطابق، خلائی سائنس کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ چینی ماہرین نے کسی کیریئر راکٹ کے پہلے مرحلے (بوسٹر) کی انتہائی منظم اور کنٹرولڈ ریکوری (Control Recovery) کا تجربہ کامیابی سے مکمل کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، لانچنگ کے بعد جیسے ہی راکٹ کے سب سے اہم حصے یعنی ‘بوسٹر’ اور ‘اپر اسٹیج’ کی خلا میں علیحدگی ہوئی، اس کے ٹھیک 6 منٹ بعد بوسٹر نے زمین کی طرف عمودی انداز (Vertical Landing) میں واپسی کا سفر شروع کیا اور سمندر میں پہلے سے موجود ایک خصوصی آف شور پلیٹ فارم پر انتہائی مہارت سے لینڈ کر گیا۔
روایتی طور پر اب تک راکٹ کے مختلف قیمتی حصے خلا میں پرواز کے دوران یا زمین پر گر کر ضائع ہو جاتے تھے، جس کے باعث عالمی سطح پر خلائی مشنز کی تیاری اور سیٹلائٹ لانچنگ کے اخراجات انتہائی زیادہ اور ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ جاتے تھے۔
تاہم، راکٹ کے سب سے قیمتی اور اہم حصے ‘بوسٹر’ کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کی اس نئی چینی کامیابی سے اب سیٹلائٹ لانچنگ اور مستقبل کی خلائی تحقیقات کے بجٹ میں نمایاں اور ریکارڈ کمی واقع ہوگی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی نجی خلائی کمپنی "اسپیس ایکس” (SpaceX) نے دسمبر 2015 میں پہلی بار اپنے ‘فالکن 9’ راکٹ کو مدار میں پرواز کے بعد کامیابی سے زمین پر لینڈ کروایا تھا، جبکہ جیف بیزوس کی کمپنی "بلو اوریجن” نے نومبر 2025 میں اپنے ‘نیو گلین’ راکٹ کی کامیاب لینڈنگ کا دعویٰ کیا تھا۔
اب چین کی جانب سے اس کلب میں شمولیت اور لانگ مارچ-10B کا کامیاب تجربہ عالمی خلائی دوڑ میں بیجنگ کی مضبوط پوزیشن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

