پاکستان کا تمام فریقین سے فوری تحمل اور کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد: پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ حملوں کے تبادلے اور اس کے نتیجے میں خطے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے فوری طور پر انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ ان حالیہ واقعات کے باعث خطے میں سیکیورٹی اور پائیدار امن کے حوالے سے سنگین خطرات پیدا ہو رہے ہیں جن میں فوری کمی لانا ناگزیر ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ فریقین کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں اور "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کے تحت طے پانے والے اپنے اپنے وعدوں کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں مزید محاذ آرائی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے اور موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ طاقت کے استعمال کے بجائے بردباری سے کام لیا جائے۔

ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری، جغرافیائی حدود اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیرمتزلزل اور اصولی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

تمام فریقین سے پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ صورتحال کو مزید بگڑنے اور کسی بڑے علاقائی بحران میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کریں۔

پاکستانی دفترِ خارجہ نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ خطے میں مستقل امن اور استحکام کا قیام صرف بات چیت، افہام و تفہیم اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

پاکستان خطے کی نازک سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے اور تنازعات کے پرامن سفارتی حل کے لیے اپنا ہر ممکن تعاونی کردار ادا کرنے کے عزم پر سختی سے کاربند ہے۔