نیویارک: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خلیج اور خطے میں بڑھتی ہوئی حالیہ عسکری کشیدگی کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے، لہٰذا تشدد اور عدم استحکام کا یہ خطرناک سلسلہ اب فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔
انہوں نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے زور دیا کہ بین الاقوامی تنازعات، بالخصوص ایران اور امریکا کے مابین حالیہ کشیدگی کو ختم کرنے اور متنازع امور کے پائیدار حل کے لیے سفارت کاری اور مسلسل سفارتی مذاکرات ہی واحد اور سب سے مؤثر راستہ ہیں۔
پاکستانی مستقل مندوب کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کو کم کرنے، جنگ بندی کی کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے اور علاقائی استحکام کی بحالی کے لیے پسِ پردہ اور سامنے دونوں محاذوں پر تعمیری سفارتی کوششیں تندہی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت صورتحال انتہائی حساس ہے، اس لیے سفارتی عمل کے دوران تمام فریقین کو ایسے بیانات، اشتعال انگیز اقدامات اور دھمکیوں سے مکمل طور پر گریز کرنا چاہیے جو مزید غلط فہمیوں کو جنم دیں اور اب تک کی محنت کو سبوتاژ کر دیں۔
عاصم افتخار نے زور دیا کہ تمام تر عالمی توجہ اور سفارتی کوششیں اب ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر اس کی روح کے مطابق مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے پر مرکوز ہونی چاہئیں تاکہ خطے کو کسی نئی جنگ سے بچایا جا سکے۔

