کراچی رینجرز کیمپ حملے میں گرفتار افغان دہشت گرد عثمان علی کے ہوشربا اعترافات، طالبان رجیم کے سہولت کاری کے ثبوت سامنے آ گئے
کراچی: گلستان جوہر میں پاکستان رینجرز سندھ کے ٹرانسپورٹ ورکشاپ و کیمپ پر ہونے والے بزدلانہ دہشت گردانہ حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز کو ایک انتہائی اہم اور بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
جوابی کارروائی کے دوران زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے افغان دہشت گرد نے تفتش کے دوران ایسے ہوشربا اور چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں جس نے سرحد پار بیٹھے سہولت کاروں اور افغان طالبان رجیم کے دعوؤں کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ISPR) اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، گرفتار خارجی دہشت گرد نے اپنا نام عثمان علی بتایا ہے اور اعتراف کیا ہے کہ اس کا تعلق افغان سرزمین پر آپریٹ کرنے والی بھارتی پراکسی تنظیم جماعت الاحرار سے ہے اور وہ خصوصی طور پر اس حملے کے لیے افغانستان کے علاقے جلال آباد سے کراچی پہنچا تھا۔
اس نے بتایا کہ اس نیٹ ورک کا افغانستان میں مرکزی کمانڈر ’احرار مولوی‘ ہے جبکہ انہیں خودکش جیکٹ تیار کرنے اور بارود کے استعمال کی تزویراتی ٹریننگ افغانستان ہی کے اندر ’عمر قاری‘ نامی خوارج انسٹرکٹر نے دی تھی۔
دہشت گرد عثمان علی نے جلیبی کی طرح پھیلے اس پورے نیٹ ورک کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے ساتھ افغانستان سے مزید 3 دہشت گرد جانان، عمر فاروق اور عبدالہادی بھی کراچی آئے تھے۔
کراچی آنے سے قبل ان کے تمام تر لاجسٹک انتظامات اور فنڈنگ افغانستان سے ہی مکمل کی گئی تھی۔ کراچی پہنچنے کے بعد انہیں ایک زیرِ تعمیر عمارت میں خفیہ طور پر ٹھہرایا گیا تھا، جہاں باجوڑ کا رہائشی دہشت گرد عبدالہادی (جو جوابی فائرنگ میں مارا جا چکا ہے) ان کے لیے وزیرستان سے بھاری اسلحہ اور خودکش جیکٹس لایا تھا۔
گرفتار خارجی نے انکشاف کیا کہ کیمپ کے مرکزی گیٹ پر دستی بم کا دھماکا دہشت گرد جانان نے کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے سیکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کی لیکن رینجرز کے جوانوں نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی۔
عثمان علی کے مطابق، جب وہ دھماکے کے بعد دوسری طرف بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا تو اسے رینجرز کی گولی لگی اور وہ وہیں گر گیا۔ اس نے شرمناک اعتراف کیا کہ "ہمیں پہلے پاکستان آرمی اور رینجرز میں فرق معلوم نہیں تھا، یہاں پہنچ کر ہمیں رینجرز سے واقف کرایا گیا اور برین واشنگ کرتے ہوئے یہ بتایا گیا کہ یہ سب کافر ہیں”۔
دہشت گرد کے اس اعترافی بیان پر پاکستان کے دفاعی اور تزویراتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹھوس شواہد اس بات کی زندہ وثوق ہیں کہ عبوری افغان طالبان حکومت کے دور میں بھی افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔
پاکستان متعدد بار کابل انتظامیہ کو ناقابلِ تردید ثبوت دے چکا ہے لیکن وہاں سے اب تک کوئی عملی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔
واضح رہے کہ 27 جون کو ہونے والے اس حملے کو رینجرز نے ناکام بناتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا تھا، جبکہ فائرنگ کے شدید تبادلے میں وطن کے 3 بہادر سپوت شہید اور 4 زخمی ہوئے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شہداء کے خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے عزمِ استحکام وژن کے تحت خون کے ایک ایک قطرے کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
کراچی میں شہید رینجرز جوانوں کی نمازِ جنازہ فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی ہے، جس میں وفاقی وزیرِ داخلہ، گورنر و وزیراعلیٰ سندھ اور کور کمانڈر کراچی سمیت اعلیٰ سول و عسکری قیادت نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

