کراچی رینجرز کیمپ حملے کے شہدا کی نمازِ جنازہ ادا؛ وزیرِ داخلہ، گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ سمیت سول و عسکری حکام کی بڑی تعداد میں شرکت
کراچی: صوبائی دارالحکومت کراچی میں صفورہ کے قریب پاکستان رینجرز (سندھ) کے کیمپ پر ہونے والے بزدلانہ دہشت گرد حملے کو ناکام بناتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے وطنِ عزیز کے بہادر سپوتوں کی نمازِ جنازہ پورے عسکری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی ہے۔
رینجرز کے ان شہدا کی نمازِ جنازہ میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، گورنر سندھ نہال ہاشمی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) رینجرز سندھ، شہداء کے سوگوار لواحقین اور سینئر سول و عسکری حکام نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اس موقع پر فضا سوگوار تھی اور تمام شرکاء نے رینجرز کے جوانوں کی جانب سے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے شہر کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کی عظیم قربانی کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا اور اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
نمازِ جنازہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو اور اپنے بیانات میں قومی و صوبائی قیادت نے عزم دہرایا کہ اس بزدلانہ کارروائی کے پیچھے موجود محرکات کو بخشا نہیں جائے گا۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے جس کا ہر قیمت پر حساب لیا جائے گا؛ انہوں نے واضح کیا کہ ملک دشمن اور دہشت گرد عناصر چاہے دنیا کے کسی بھی کونے یا چھپنے کی جگہ پر ہوں، ہماری سیکیورٹی فورسز ان کا پیچھا کر کے انہیں کیفرِ کردار تک پہنچا کر دم لیں گی۔
گورنر سندھ نہال ہاشمی نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایسی ناپاک سازشوں کو کبھی برداشت نہیں کرے گا اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے رینجرز کے جوانوں کی جرات کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
نمازِ جنازہ کی ادائیگی اور عسکری سلامی کے بعد رینجرز کے شہدا کے جسدِ خاکی کو ایمبولینسز کے ذریعے ان کے آبائی علاقوں کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں پورے سرکاری اور فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔
بعد ازاں، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے گورنر سندھ نہال ہاشمی کے ہمراہ صفورہ میں واقع اسی رینجرز کیمپ (ٹرانسپورٹ ورکشاپ) کا تفصیلی دورہ بھی کیا جہاں گزشتہ رات گئے بھارتی پراکسی تنظیم جماعت الاحرار کے خوارج نے حملہ کیا تھا اور رینجرز کی جوابی کارروائی میں 3 حملہ آور ہلاک اور ایک افغان خارجہ گرفتار ہوا تھا۔
وزیرِ داخلہ نے موقع پر موجود افسران سے سیکیورٹی انتظامات اور حملے کی تفتیش کے حوالے سے بریفنگ لی۔

