صدر مملکت آصف علی زرداری نے فنانس بل 27-2026 پر دستخط کر دیے

اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ سے باقاعدہ منظوری کے بعد مالی سال 27-2026 کے فنانس بل (Finance Bill 2026-27) کی حتمی منظوری دیتے ہوئے اس پر دستخط کر دیے ہیں۔

صدارتی دستخط کے بعد اب اس بل کو گزٹ نوٹیفکیشن کے لیے پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کو بھجوا دیا گیا ہے۔

وفاقی وزارتِ خزانہ اور قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ صدرِ مملکت نے فنانس بل کی یہ تزویراتی منظوری وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی آفیشل ایڈوائس پر دی ہے۔

گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی آئندہ مالی سال 27-2026 کا وفاقی بجٹ یکم جولائی 2026 سے ملک بھر میں باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو جائے گا۔

وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق، تقریباً 18 ہزار 771 ارب روپے کے ریکارڈ حجم پر مشتمل اس وفاقی بجٹ پر عمل درآمد کا آغاز یکم جولائی سے ہوگا، اور بجٹ میں شامل تمام تر مالیاتی اقدامات، ٹیکس اصلاحات، ڈیوٹیوں میں ردوبدل اور دیگر معاشی فیصلے بھی اسی تاریخ سے نافذ تصور کیے جائیں گے۔

فنانس بل کے تحت مہنگائی کے تناظر میں وفاقی حکومت کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی حتمی منظوری دی گئی ہے، جو یکم جولائی سے ملنے والی تنخواہوں پر لاگو ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے فنانس بل کو حتمی صدارتی مہر کے لیے گزشتہ روز ایوانِ صدر بھجوایا تھا، جو اب منظور ہو کر واپس اسمبلی سیکریٹریٹ کو موصول ہو چکا ہے۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ فنانس ایکٹ 27-2026 کا باقاعدہ نفاذ وفاقی حکومت کے لیے نئے مالی سال کے اسٹریٹجک ترقیاتی منصوبوں، بنیادی معاشی اصلاحات اور مالیاتی اہداف کے حصول کی جانب ایک انتہائی اہم سنگِ میل ہے۔

اس قانون کے فعال ہونے کے بعد وفاقی حکومت مختلف شعبوں کے لیے مقرر کردہ ترقیاتی اور معاشی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں شامل مالیاتی گرانٹس اور پالیسیوں پر عملی اقدامات کا آغاز کر سکے گی۔

ماہرینِ معیشت کے مطابق، اس بجٹ کے نفاذ سے ملک میں مالیاتی استحکام پیدا کرنے اور آئی ایم ایف (IMF) سمیت دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہوگی۔