شرپسند عناصر آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے جھوٹا بیانیہ بنا رہے ہیں، تمام راستے کھلے ہیں، آئی جی آزاد کشمیر لیاقت علی ملک

مظفر آباد: آزاد جموں و کشمیر کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس لیاقت علی ملک نے دارالحکومت مظفر آباد میں ایک ہنگامی اور اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ملک دشمن اور شرپسند عناصر جدید ترین ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کا سہارا لے کر آزاد کشمیر کی مجموعی صورتحال اور سیکیورٹی سے متعلق انتہائی منظم اور جھوٹا پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔

آئی جی کشمیر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں جعلی، گمراہ کن اور من گھڑت خبریں (Fake News) امن و امان کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکی ہیں، کیونکہ شرپسندوں کی جانب سے ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے سیکنڈوں میں نئے سے نئے جھوٹے بیانیے تخلیق کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے ریاست کے غیور شہریوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی سنسنی خیز خبر یا افواہ کو آگے شیئر کرنے سے قبل مستند ذرائع سے اس کی تصدیق ضرور کریں۔

آئی جی لیاقت علی ملک نے ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کی حالیہ رپورٹ کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی میڈیا نے اپنی خبر میں حقائق کے بالکل منافی اور بے بنیاد الزامات لگائے ہیں؛ بالخصوص خوراک سے بھری گاڑی کو روکنے کا دعویٰ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔

انہوں نے اصل صورتحال واضح کرتے ہوئے بتایا کہ درحقیقت ایک کالعدم تنظیم کے ارکان نے راولا کوٹ کے کچھ حصوں میں زبردستی راستے بند کرنے کی کوشش کی، جہاں انہوں نے خوراک اور اشیائے ضروریہ لے جانے والی سپلائی گاڑیوں کو نہ صرف لوٹا بلکہ ان کے بے قصور ڈرائیوروں کو شدید ترین تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

آئی جی نے واضح کیا کہ راولا کوٹ کے چند مخصوص علاقوں کے سوا پورے آزاد کشمیر میں آمدورفت کے تمام داخلی و خارجی راستے معمول کے مطابق مکمل طور پر کھلے ہیں۔

ریاستی پولیس کے سربراہ نے سیکیورٹی کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر پولیس عوام کے جان و مال، عزت اور آبرو کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن و امان کے قیام کے لیے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بھرپور اور فول پروف انداز میں انجام دے رہی ہے۔

انہوں نے شہریوں کو آگاہ کیا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی کسی بھی خبر کی سچائی جانچنے کے لیے جدید ‘فیکٹ چیکنگ’ (Fact Checking) کے ذرائع اور آفیشل ہینڈلز کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسی فیک نیوز اور افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے انتظامیہ کا ساتھ دیں اور جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کی حوصلہ شکنی کریں تاکہ سماج میں کسی قسم کی بے چینی اور غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔