امریکا ایران مذاکرات: آئندہ ہفتے ہونے والے تکنیکی کمیٹیوں کے اجلاس کی پاکستان اور قطر مانیٹرنگ کریں گے، دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران خطے کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال، امریکہ ایران امن عمل اور صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی بازیابی کے حوالے سے انتہائی اہم تفصیلات شیئر کی ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی دعوت پر پاکستان کا ایک انتہائی کامیاب اور اعلیٰ سطح کا دورہ مکمل کیا ہے، جس میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور عسکری قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں۔

اس دورے کے دوران امریکی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بعد پاک ایران تجارتی و معاشی تعاون کے فروغ کے نئے امکانات اور دیرینہ گیس پائپ لائن منصوبے سمیت تمام باہمی تزویراتی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جس کے بعد دونوں برادر ممالک نے تعلقات کو فولادی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے جنیوا اور برگن اسٹاک (سوئٹزرلینڈ) میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ 21 جون کو ہونے والی اس تزویراتی بیٹھک میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے پاکستان کی مخلصانہ نمائندگی کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کی اگلی کڑی کے طور پر فریقین کے مابین 3 مخصوص تکنیکی ورکنگ گروپس (Technical Working Groups) قائم کر دیے گئے ہیں۔

پہلا گروپ ایرانی نیوکلیئر پروگرام سے متعلق معاملات کو مانیٹر کر رہا ہے، دوسرا گروپ 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں اور عارضی جنرل لائسنس کے تکنیکی امور کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ تیسرا ورکنگ گروپ مشرقِ وسطیٰ اور لبنان کی نازک جیو پولیٹیکل صورتحال پر مستقل کام کر رہا ہے۔

ترجمان کے مطابق، پاکستان اور قطر کی مانیٹرنگ ٹیمیں ان تمام گروپس کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں اور یہ تکنیکی مذاکرات آئندہ ہفتے دوبارہ شروع ہوں گے۔

عالمی برادری اور دوست ممالک بشمول سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور اٹلی نے اس پورے عمل میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کو سراہا ہے۔

ترجمان نے دیگر بین الاقوامی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان اور ڈنمارک کی مشترکہ حمایت یافتہ ‘قرارداد 2223’ کو 153 ممالک کی بھاری اکثریت سے منظور کر لیا گیا ہے، جس کے تحت یو این (UN) امن دستوں پر ہونے والے کسی بھی حملے کو بین الاقوامی قوانین کے تحت ناقابلِ برداشت قرار دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان نے رواں ہفتے ہی اپنے مخلصانہ سفارتی اثر و رسوخ کے ذریعے 30 ایرانی شہریوں کو برطانوی اور امریکی حراست سے باقاعدہ رہائی دلا کر تہران روانہ کیا ہے۔

صومالی بحری قزاقوں کی جانب سے پاکستانی بحری جہاز کے عملے کو یرغمال بنائے جانے کے سنگین معاملے پر ترجمان طاہر حسین اندرابی نے واضح کیا کہ یہ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صومالیہ کی کوسٹ پر پھنسے پاکستانیوں کی باحفاظت بازیابی کے لیے صومالیہ کے اعلیٰ حکام سے مسلسل رابطے قائم ہیں، جبکہ پاکستانی سفارت خانے کی ایک خصوصی تکنیکی ٹیم نے پڑوسی ملک جبوتی کا ہنگامی دورہ بھی کیا ہے۔

حکومت نے اس سلسلے میں ایک ہائی لیول انٹر منسٹریل (بین الوزارتی) اجلاس منعقد کیا ہے اور یرغمالیوں کی فوری اور محفوظ رہائی کے لیے انصار برنی ٹرسٹ سمیت مختلف مقامی اور بین الاقوامی سماجی تنظیموں (NGOs) کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔