ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے اہم ملاقات؛ امریکہ ایران ڈیل پر پاکستان کے کردار کو خراجِ تحسین
راولپنڈی: پاکستان کے ایک روزہ انتہائی اہم تزویراتی دورے پر آئے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وفد کے ہمراہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر سے ایک اعلیٰ سطح کی اہم ملاقات کی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (ISPR) کے مطابق، اس اہم ترین ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال، خطے میں مستقل امن کے فروغ، بارڈر مینجمنٹ اور تزویراتی استحکام سے متعلق امور پر تفصیلی اور تعمیری تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر ایرانی صدر نے امریکہ اور ایران کے مابین حالیہ تاریخی جنگ بندی معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) کو ممکن بنانے اور دونوں بڑی طاقتوں کے مابین کامیاب مکالمے کے فروغ کے لیے پاکستان کے عسکری و سفارتی شعبوں کے ذمہ دارانہ کردار کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ملاقات کے دوران واضح کیا کہ خطے میں جاری خطرناک کشیدگی کو کم کرنے، علاقائی اسٹیک ہولڈرز کے مابین مفاہمت کی فضا قائم کرنے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی و تزویراتی کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار پڑوسی اور برادر ملک کا حق ادا کیا ہے اور مشکل ترین وقت میں دونوں ممالک کے درمیان خلیج کو کم کرنے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔
ملاقات کے دوران آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے خطے میں پائیدار امن، خوشحالی اور معاشی استحکام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے معزز مہمان کو یقین دلایا کہ پاک فوج خطے کو کسی بھی بڑی بربادی سے بچانے کے لیے اپنا مثبت سفارتی اور دفاعی کردار جاری رکھے گی۔
دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ بدلے ہوئے جیو پولیٹیکل منظر نامے میں پاکستان اور ایران کے مابین برادرانہ اور تاریخی دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم بنایا جائے گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، دونوں ممالک کی قیادت نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا ہے کہ مشترکہ چیلنجز بالخصوص دہشت گردی کے خاتمے، پاک ایران سرحد (بارڈر سیکیورٹی) کو امن و دوستی کی سرحد بنانے، اور باہمی دلچسپی کے تمام علاقائی و بین الاقوامی امور پر مستقل اور قریبی مشاورت کے عمل کو برقرار رکھا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایرانی صدر اپنے اس ایک روزہ ہنگامی دورے کے دوران اس سے قبل صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقاتیں کر چکے ہیں، جہاں پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کے نتیجے میں ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر کی بحالی کے حوالے سے طریقہ کار کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

