ایران امریکہ تاریخی معاہدے کی دستخطی تقریب؛ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کل شام سوئٹزرلینڈ پہنچیں گے

اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے بعد طے پانے والے تاریخی امن معاہدے اور مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کی عالمی تقریب کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے پاکستانی دفترِ خارجہ کے حکام پیشگی طور پر سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق، سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ افسران اور پروٹوکول اسٹاف کے ہمراہ جنیوا پہنچ چکی ہیں، جہاں وہ دستخطی تقریب کے انتظامی امور کی نگرانی کر رہی ہیں۔ دفترِ خارجہ کے دیگر سینیئر حکام اور سفارت کاروں کا دوسرا دستہ بھی آج رات گئے جنیوا کے لیے روانہ ہو گا۔

پاکستان اس تاریخی امن عمل میں کلیدی اور مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے حکام کو تقریب کے پروٹوکول اور سیکیورٹی انتظامات میں خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔

اس تاریخی اور عالمی اہمیت کی حامل تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان کی اعلیٰ ترین سول و عسکری قیادت کل روانہ ہو گی۔

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سنئیر رہنما اسحاق ڈار اور وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کل شام تک سوئٹزرلینڈ پہنچیں گے، جہاں وہ تقریب کے دوران پاکستانی وفد کی قیادت کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی رہنماؤں سے سائیڈ لائن ملاقاتیں بھی کریں گے۔

پاکستان کے علاوہ اس تاریخی ڈیل کے دیگر اہم سہولت کار اور علاقائی ممالک بشمول قطر، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے اعلیٰ ترین نمائندے اور سفارت کار بھی اس تقریب کا حصہ بننے کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اس تزویراتی مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط جمعے کے روز ہوں گے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر اس تقریب کے لیے جنیوا کا انتخاب کیا گیا تھا، تاہم سفارتی اور سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اب یہ تقریب سوئٹزرلینڈ کے انتہائی محفوظ اور پُرسکون پہاڑی ریزورٹ برگن اسٹاک (Bürgenstock) میں منعقد کی جا رہی ہے۔

معاہدے پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف دستخط کریں گے۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس امن معاہدے کے انعقاد میں پاکستانی دفترِ خارجہ اور عسکری قیادت کی مشترکہ سفارتکاری نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی جنگ کی ہولناکی سے بچانے میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے، جسے اب برطانوی پارلیمنٹ سمیت پوری دنیا میں کھلے دل سے سراہا جا رہا ہے۔