اسلام آباد: وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات سے عین پہلے پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی مخصوص نشستیں ختم کرنے کے مطالبے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اسے انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش اور بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ مہاجرین کو ان کے جمہوری و آئینی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ایک تفصیلی بیان میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ آزاد کشمیر میں عام انتخابات کا انعقاد 27 جولائی کو ہونے جا رہا ہے۔ اس دوران عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پاکستان بھر سے منتخب ہونے والی 12 نشستیں ختم کی جائیں۔
خواجہ آصف نے اس مطالبے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ انتخابات کے اتنے قریب آ کر ایسا مطالبہ کرنا انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ جمہوری سوچ کا تقاضا تو یہ ہے کہ جو لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں، وہ یہ معاملہ انتخابات کے دوران عوام کے سامنے رکھیں اور خلقِ خدا کو فیصلہ کرنے دیں۔ اپنی رائے زبردستی مسلط کرنا جمہوری سوچ نہیں بلکہ بلیک میلنگ تصور ہوگی۔
اکتوبر 1947 کی قربانیاں اور سیالکوٹ کے مہاجرین:
کشمیری مہاجرین کی تاریخی پس منظر اور ان کی لازوال قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے بتایا کہ اکیلے سیالکوٹ شہر اور تحصیل سے کشمیر اسمبلی کی ایک مکمل نشست بنتی ہے، جبکہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی دو نشستیں یہاں موجود ہیں، اور باقی حلقے پاکستان کے دیگر شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہاں آباد کشمیری مہاجروں کی بڑی تعداد کا تعلق جموں سے ہے۔
انہوں نے ماضی کے جھروکوں سے حقائق واضح کرتے ہوئے جذباتی انداز میں کہا کہ اکتوبر 1947ء میں 2 لاکھ سے زائد مہاجرین اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر، کسمپرسی کی حالت میں سیالکوٹ شہر اور تحصیل میں آ کر بسے تھے۔ اس ہجرت کے دوران لاکھوں عصمتیں لٹیں اور ہزاروں بیٹیاں اغوا ہوئیں۔ ان مہاجرین نے کئی دہائیاں بنیادی سہولتوں سے محروم رہ کر نہایت کٹھن حالات میں گزاریں۔ انہوں نے آزادی کی بہت مہنگی قیمت ادا کی ہے، آپ کس طرح ان مہاجروں کو ان کے بنیادی سیاسی حق سے محروم کر سکتے ہیں؟
وزیرِ دفاع نے مطالبہ کرنے والے عناصر پر زور دیا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ بیلٹ باکس کے ذریعے ہونا چاہیے، اس لیے اپنی رائے کو تسلیم کرانے کے لیے دباؤ کے ہتھکنڈوں کے بجائے جمہوری اور آئینی راستہ اپنایا جائے۔

