ایران کی تباہ شدہ تنصیبات سے صرف امریکا اور چین یورینیم نکال سکتے ہیں مگر اس کی ضرورت نہیں، صدر ٹرمپ

واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور سفارتی رسہ کشی کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام اور خطے کی صورتحال پر انتہائی اہم اور سنسنی خیز بیانات جاری کیے ہیں۔

اوول آفس اور وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کے ’زیرِ زمین محفوظ‘ افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کسی بھی وقت حاصل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ پچھلے امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کی جوہری تنصیبات اتنی بری طرح تباہ ہو چکی ہیں کہ وہاں اب عام حالات میں کام کرنا ناممکن ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی جوہری تنصیبات پچھلے حملوں سے اتنی بری طرح تباہ ہیں کہ پہاڑوں کے ملبے تلے دبے افزودہ یورینیم کو نکالنا انتہائی مشکل کام ہے۔ دنیا میں صرف امریکا اور چین ہی وہ ممالک ہیں جن کے پاس ایسے جدید آلات ہیں جن کی مدد سے یہ یورینیم نکالا جا سکتا ہے۔ عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) بھی اس تیکنیکی حقیقت سے اتفاق کرتی ہے۔”

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل کے تحت تہران کو نیوکلیئر ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور معاہدہ ہوتے ہی ایران کی جانب سے بند کی گئی آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے امریکی فوج پر کوئی حملہ کیا تو یہ دوبارہ باقاعدہ جنگ کے آغاز کا جواز بن جائے گا۔