اسرائیل نے ایران پر حملوں کے لیے ہمسایہ مسلم ممالک میں خفیہ جنگی اڈے قائم کر رکھے تھے، امریکی میڈیا کا انکشاف
واشنگٹن: امریکی میڈیا نے ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ کے حوالے سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور بڑا انکشاف کیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے ایران کا گھیراؤ کرنے کے لیے اس کے پڑوسی اور خطے کے مسلم ممالک میں اپنے ایلیٹ فوجی دستوں اور انٹیلیجنس یونٹس کا ایک وسیع خفیہ نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا، جس کی مدد سے ایران کے اندر تک تباہ کن کارروائیاں کی گئیں۔
رپورٹ میں چار باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز آذربائیجان کے جنوبی علاقوں میں متعدد خفیہ مقامات سے آپریٹ کر رہی تھیں۔ ان میں سے بعض اڈے ایرانی شہر تبریز سے محض 60 میل (تقریباً 60 کلومیٹر) کی دوری پر تھے، جنہیں اسرائیل نے جنگ کے دوران نشانہ بھی بنایا۔ ان مقامات پر موساد کے اہلکار، اسپیشل کمانڈو یونٹس اور ایلیٹ ہیلی بورن ریسکیو فورسز تعینات تھیں، جنہوں نے ڈرون آپریشنز کے ذریعے شمالی ایران کی نگرانی کی۔
سی این این کے مطابق، ان اڈوں سے ہونے والا سب سے بڑا آپریشن 4 مارچ کو ہوا، جس میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے انٹیلیجنس ڈویژن کے سربراہ رحمان مقدم کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل انہیں 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والے قاتلانہ حملے کا ماسٹر مائنڈ سمجھتا تھا۔ اس کارروائی کے اگلے ہی روز جواب میں آذربائیجان کے نخچیوان ایئرپورٹ پر ایرانی ڈرون حملہ ہوا تھا۔ تاہم، امریکا میں آذربائیجان کے سفارت خانے نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے ابتدائی طور پر ان اڈوں کو ہنگامی حالات میں پائلٹس کو بچانے کے لیے ‘ریسکیو سینٹرز’ کے طور پر پیش کیا تھا، لیکن بعد میں انہیں جنگی مراکز میں تبدیل کر کے ایران کو تینوں اطراف (شمال، جنوب اور مغرب) سے گھیر لیا گیا:
- عراق: ‘وال اسٹریٹ جرنل’ اور ‘نیویارک ٹائمز’ کے مطابق اسرائیل نے عراق میں دو خفیہ اڈے لاجسٹک اور سرچ اینڈ ریسکیو کے لیے استعمال کیے۔ عراقی فوج نے مارچ کے اوائل تک ایسے کسی غیر قانونی بیس کی موجودگی کی تردید کی ہے۔
- متحدہ عرب امارات (UAE): اسرائیل نے یہاں خاموشی سے اپنا خطرناک ‘آئرن ڈوم’ فضائی دفاعی نظام اور اہلکار تعینات کیے۔ جنگ کے دوران وزیراعظم نیتن یاہو اور موساد کے سربراہ نے یو اے ای کا خفیہ دورہ بھی کیا، جس کی اماراتی حکام نے تردید کی ہے۔
- صومالی لینڈ: افریقا کے اس متنازع علاقے کو دسمبر 2025 میں اسرائیل نے باضابطہ تسلیم کیا تھا (جسے پاکستان سمیت مسلم دنیا نے مسترد کیا)۔ یہاں کے ساحلی شہر بیربیرا میں اسرائیلی جنگی طیاروں کو طویل پروازوں کے دوران رکنے کی سہولت دی گئی۔
اس مہم جوئی پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے لبنانی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں متحدہ عرب امارات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے ہمارے خلاف یو اے ای کی سرزمین استعمال کی ہے۔ ہمارے پاس اس جارحیت اور امارات کی بعض فوجی کارروائیوں میں براہِ راست شمولیت کے ناقابلِ تردید دستاویزی ثبوت موجود ہیں جو ہم دنیا کو دکھا سکتے ہیں۔ ہم نے خلیجی ممالک پر واضح کر دیا تھا کہ اگر ان کی زمین استعمال ہوئی تو وہاں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
عباس عراقچی نے 28 فروری کو ایران پر ہونے والے اچانک امریکی و اسرائیلی حملے کی ہولناک رات کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت سپریم لیڈر کے دفتر میں موجود تھے۔ محفوظ مقام پر منتقلی کے تمام مشوروں کے باوجود سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنا دفتر چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن میدانِ جنگ میں ناکامی کے بعد اب ایران کے اندرونی نظام میں اختلافات پیدا کرنے کی ناکام کوششیں کر رہا ہے۔

