ناسا کا رواں سال کے اختتام تک قمری بیس مشن روانہ کرنے کا اعلان

واشنگٹن ڈی سی: امریکی خلائی ادارے ناسا (NASA) نے کائنات کی وسعتوں کو مسخر کرنے کی جانب ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ چاند پر مستقل انسانی بیس (Base) بنانے کے ابتدائی مشنز رواں سال کے اختتام سے قبل خلا میں روانہ کر دیے جائیں گے۔ یہ مشن نہ صرف چاند پر انسانی رہائش کا خواب پورا کرے گا بلکہ مستقبل میں مریخ (Mars) تک پہنچنے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ادارہ اپنے 1960ء کی دہائی والے قدیم ‘اپالو مشن’ ماڈل سے بہت کچھ سیکھ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ماضی میں کیا چیزیں کامیاب رہیں اور کن میں بہتری کی گنجائش ہے۔

جیرڈ آئزک مین کا کہنا تھا کہ چاند پر مستقل بیس بنانا جتنا خوبصورت اور پرکشش خواب ہے، عملی طور پر یہ اتنا ہی خطرناک اور چیلنجنگ مشن بھی ہے۔ ہم اس بار صرف قدم رکھنے نہیں، بلکہ وہاں رکنے کے لیے جا رہے ہیں۔

یہ تاریخی مشن ناسا کے مشہورِ زمانہ ’آرٹیمس پروگرام‘ کا حصہ ہے، جس کا حتمی مقصد خلا بازوں کو مریخ جیسے دور دراز سیاروں تک پہنچانے کے لیے چاند کو ایک ‘لانچنگ پیڈ’ کے طور پر استعمال کرنا ہے۔

اس مشن کی سب سے منفرد بات دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل جیف بیزوس کی خلائی کمپنی ’بلیو اوریجن‘ (Blue Origin) کی شمولیت ہے۔ یہ انسانی تاریخ کا پہلا موقع ہوگا جب نجی فنڈنگ سے چلنے والا ایک ‘لونر لینڈر’ (Lunar Lander) مشن چاند کی سطح پر اترے گا۔ اس اشتراک کو خلائی تحقیق میں سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان ایک نئے عہد کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔

ابتدائی مرحلے میں، ناسا ایک بغیر انسان (Unmanned) کے قمری لینڈر کو چاند کے انتہائی دشوار گزار لیکن سائنسی طور پر اہم ترین علاقے جنوبی قطب (South Pole) پر اتارے گا۔ یہاں لینڈنگ کے دوران جدید ترین ٹیکنالوجی کا تجربہ کیا جائے گا اور مختلف سائنسی آلات نصب کیے جائیں گے جو وہاں برف، پانی اور دیگر معدنیات کی موجودگی کا سراغ لگائیں گے۔

خلائی ماہرین کے مطابق، اگر یہ ابتدائی مشن کامیابی سے ہمکنار ہوا تو وہ دن دور نہیں جب چاند کی زمین پر انسانوں کی مستقل بستیاں نظر آئیں گی اور انسان زمین کی حدود سے باہر ایک نئی دنیا آباد کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔