فیلڈ مارشل عاصم منیر کا "مختصر مگر انتہائی مؤثر” دورۂ ایران مکمل؛ امریکہ ایران حتمی سمجھوتے کے لیے بڑی پیش رفت، آئی ایس پی آر
راولپنڈی: پاکستان کی تاریخی اور انتھک سفارتی کوششوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے قیام کے لیے ایک بہت بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مختصر، انتہائی اہم اور مؤثر سرکاری دورۂ ایران مکمل ہو گیا ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تہران میں ہونے والی گہری اور بھرپور بات چیت کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی مفاہمت کی طرف انتہائی حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ آفیشل ہینڈ آؤٹ کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں ایران کی اعلیٰ ترین قیادت سے ملاقاتیں انتہائی مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئیں۔
اس مشن کے دوران انہوں نے ایرانی صدر مسعود زیشکیان، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد 8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد خطے میں بدستور موجود کھینچا تانی اور کشیدگی کو مستقل طور پر کم کرنا اور فریقین کے مابین تعمیری روابط کے فروغ کو یقینی بنانا تھا۔
ترجمان آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ تہران میں ہونے والے ان سفارتی اور عسکری رابطوں نے ثالثی کے عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے کلیدی اور معنی خیز کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کی طویل اور گہری مشاورت کے بعد اب دونوں ممالک (امریکہ اور ایران) ایک حتمی اور پائیدار معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔
اعلامیے کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزیشکیان اور اعلیٰ حکام نے علاقائی مسائل کے پرامن حل اور واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے فروغ میں پاکستان کے مخلصانہ، غیر جانبدارانہ اور تعمیری کردار کی زبردست الفاظ میں تعریف کی اور شکریہ ادا کیا۔
یاد رہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری اس سنسنی خیز تناؤ کو ختم کرنے کے لیے گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ تہران پہنچے تھے، جہاں ائیرپورٹ پر ایرانی وزیر داخلہ اور سینئر عسکری حکام نے ان کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا تھا۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، فیلڈ مارشل کے اس کامیاب دورے کے بعد اب دنیا کسی بھی وقت امریکہ اور ایران کے درمیان امن کے ایک نئے اور باضابطہ معاہدے کی گواہ بن سکتی ہے۔

