واشنگٹن: امریکی حکومت اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں ایک بڑا سفارتی اور سیاسی بحران اس وقت پیدا ہو گیا جب امریکہ کی تمام 18 انٹیلی جنس ایجنسیوں کی نگرانی کرنے والی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس (DNI) تلسی گبارڈ (Tulsi Gabbard) نے اپنے عہدے سے اچانک مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ وہ رواں سال 30 جون 2026 کو باضابطہ طور پر اپنا عہدہ چھوڑ دیں گی۔
تلسی گبارڈ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے اپنے الوداعی خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے شوہر کو ہڈیوں کے کینسر (Bone Cancer) کی ایک انتہائی نایاب اور سنگین قسم کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے باعث اب ان کے شوہر کو ان کی زیادہ ضرورت ہے۔ وہ اب اپنا تمام وقت شوہر کی دیکھ بھال اور ان کے ساتھ گزارنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ڈیڑھ سال تک اس اہم ترین عہدے پر اعتماد کرنے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اگرچہ تلسی گبارڈ نے استعفے کو خالصتاً خاندانی اور ذاتی معاملہ قرار دیا ہے، تاہم امریکی میڈیا اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے اس کے پیچھے گہرے سیاسی اختلافات کا دعویٰ کیا ہے۔
- پالیسی پر اختلافات: رپورٹس کے مطابق، فروری 2025 میں عہدہ سنبھالنے والی تلسی گبارڈ کے دور میں مشرقِ وسطیٰ، خصوصاً ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ اور عسکری پالیسیوں پر وائٹ ہاؤس اور ان کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے تھے۔
- جنگی مؤقف سے دوری: وہ کئی مواقع پر ٹرمپ انتظامیہ کے جارحانہ جنگی مؤقف سے مختلف اور نرم رائے رکھتی تھیں، جس کی وجہ سے انتظامیہ میں ان کی پوزیشن کافی کمزور ہو چکی تھی۔
- وائٹ ہاؤس کا دباؤ: برطانوی خبر رساں ایجنسی نے اس معاملے سے واقف قریبی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ تلسی گبارڈ نے خود استعفیٰ نہیں دیا بلکہ وائٹ ہاؤس نے انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کیا ہے، تاہم سرکاری طور پر اس دباؤ کی تصدیق نہیں کی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اوول آفس میں تلسی گبارڈ سے ملاقات کے بعد ان کے استعفے کی تصدیق کی اور بتایا کہ وہ 30 جون تک کام جاری رکھیں گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق، تلسی گبارڈ کی رخصتی کے بعد ڈپٹی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس آرون لوکاس (Aaron Lucas) عبوری ڈائریکٹر کے طور پر انٹیلی جنس ایجنسیوں کے فرائض سرانجام دیں گے۔

