سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اعلیٰ سطح کے دفاعی اور ایرو اسپیس مشن پر ترکیہ پہنچ گئے
راولپنڈی: پاک فضائیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور نیکسٹ جنریشن کی عسکری صلاحیتوں کے حصول کے لیے سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو ایک اہم سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، ائیر چیف نے اپنے دورے کے دوران ترکیہ کی دفاعی، فضائیہ اور ایرو اسپیس انڈسٹری کی اعلیٰ ترین قیادت سے مصروفیات کا آغاز کر دیا ہے۔
دورے کی سب سے اہم اور تزویراتی ملاقات بائیکار ٹیکنالوجیز (Baykar Technologies) کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر اور دنیا کے مشہور ترین ڈرونز کے خالق سلجوق بیرقدار (Selcuk Bayraktar) سے ہوئی۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے بغیر پائلٹ کے فضائی نظام (UAVs / ڈرونز)، ایرو اسپیس جدت اور جدید ترین ٹیکنالوجیز میں باہمی تعاون کے وسیع امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ ملاقات دونوں برادر ممالک کے مابین دفاعی ٹیکنالوجیز میں خود کفالت اور مشترکہ پیداوار کے طویل مدتی عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
اس سے قبل، ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے ترک فضائیہ کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں ترک فضائیہ کے سربراہ جنرل ضیا کمال کادی اوغلو نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ پاک فضائیہ کے سربراہ کو چاک و چوبند دستے کی جانب سے روایتی گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
دونوں فضائی سربراہان نے مشترکہ عسکری مشقوں اور پیشہ ورانہ تبادلہ پروگرامز کے ذریعے آپریشنل ہم آہنگی بڑھانے پر اتفاق کیا۔ ترک ائیر چیف نے ترک پائلٹس کی اعلیٰ اور پیشہ ورانہ تربیت میں پاک فضائیہ کے دیرینہ اور مسلسل تعاون کو زبردست الفاظ میں سراہا۔
بعد ازاں ائیر چیف نے ترکیہ کے وزیرِ قومی دفاع یاسر گلیر سے تفصیلی ملاقات کی، جس میں خطے کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال اور دوطرفہ عسکری روابط پر گفتگو ہوئی۔
ائیر چیف کا کہنا تھا کہ پاک ترک تعلقات اسلامی اخوت، لازوال باہمی اعتماد اور مشترکہ اسٹریٹجک مفادات پر مبنی ہیں۔ ترک وزیرِ دفاع نے پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو جدید سطح پر لانے کے عمل کی تعریف کرتے ہوئے ایرو اسپیس اور دفاعی پیداوار میں گہرے روابط قائم کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق، ائیر چیف کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان ٹیکنالوجی کی منتقلی اور جدید فضائی ہتھیاروں کی مقامی سطح پر تیاری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، اور ترکیہ اس سفر میں پاکستان کا سب سے مضبوط شراکت دار بن کر ابھرا ہے۔

